وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
And do not invoke besides Allah that which neither benefits you nor harms you, for if you did, then indeed you would be of the wrongdoers
Death testifies to the fact that man is completely powerless in this world. Death proves all those things false, on the strength of which man opts for the way of arrogance and denial of God. Death introduces man, on the one hand, to his helplessness and on the other to God’s majestic power. It shows that in this world there is nobody who has the power to grant benefits or inflict harm. If a man has a mind capable of learning lessons from events, then the event of death is enough to reform him. It makes a man a perfect worshipper of God. A time comes for every man when, helpless, he surrenders himself to death. Similarly, it is not within the power of any man, whether it concerns benefit or harm, to cause things to happen as he wants. He receives the desired benefit in any case; and remains safe from undesirable harm in any case. This state of affair shows that man is a powerless creature: he lives in a world where there is some Being who rules over him.
داعی اولاً دلیل کی زبان میں اپنی بات کہتاہے۔ مگر جب لوگ دلیل سننے کے باوجود شک وشبہ میں پڑے رہتے ہیں تو اس کے پاس آخری چیز یہ رہ جاتی ہے کہ عزم کی زبان میں اپنے پیغام کی صداقت کا اظہار کردے۔
توحید کے داعی کا شرک کے پرستاروں سے یہ کہنا کہ ’’میں اس کی عبادت نہیںکرتا جس کی عبادت تم لوگ کرتے ہو‘‘ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک دلیل بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ— میں بھی تمھارے جیسا ایک انسان ہوں۔ میرے پاس بھی وہی عقل ہے جو تمھارے پاس ہے۔ پھر جس بات کی صداقت میری سمجھ میں آرہی ہے اس کی صداقت تمھاری سمجھ میں آخر کیوں نہیں آتی۔
سچائی اگر ایک انسان کی سطح پر قابل فہم ہوجائے تو اس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی قابلِ فہم تھی۔ اس کے باوجود اگر دوسرے لوگ انکار کریں تو یقیناً اس کی وجہ خود ان کا اپنا کوئی نقص ہوگا، نہ کہ دعوت حق کا نقص۔ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ رہا ہو اور دوسرا آنکھ والا شخص اسے نہ دیکھے تو وہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آنکھ والا حقیقۃً آنکھ والا نہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ لے اس کو دوسرا شخص آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔
موت اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی اس دنیا میں کامل طورپر بے اختیار ہے۔ موت ان تمام چیزوں کو باطل ثابت کردیتی ہے جن کے سہارے آدمی انکار اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتاہے۔ موت ایک طرف آدمی کو اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کا تعارف کراتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ ا س دنیا میں کوئی نہیں جس کو نفع دینے یا نقصان پہنچانے کا اختیار حاصل ہو۔ اس طرح موت آدمی کو ہر دوسری چیز سے کاٹ کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ مکمل طور پر انسان کو خدا کا پرستار بناتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن ہو تو صرف موت کا واقعہ اس کی اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔
ہر انسان پر ایک وقت آتاہے جب کہ وہ بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو موت کے حوالے کردیتاہے۔ اسی طرح کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ فائدہ اور نقصان کے معاملہ میں وہی ہونے دے جو وہ چاہتاہے۔ وہ مطلوب فائدہ کو ہر حال میں پالے اور غیر مطلوب نقصان سے ہر حال میں محفوظ رہے۔
یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان ایک بے اختیار مخلوق ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں کوئی اور بھی ہے جو اس کے اوپر حکمرانی کررہا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →