ثُمَّ جَعَلۡنَٰكُمۡ خَلَـٰٓئِفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لِنَنظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُونَ
Then We made you successors in the land after them so that We may observe how you will do
‘Then We made you their successors (khala’if, sing. khalifah) in the land.’ The real meaning of khalifah is ‘one who comes afterwards’. This word ‘successor’ is specially used for coming into power after another. This succession is in relation to human beings and not in relation to God. In the Quran, wherever the word khilafah has been used, it is in connection with succession to some creature and not in connection with succession to God. Making somebody a successor is solely for the purpose of putting him to the test and is not meant to confer any honour. Making somebody a successor means giving one an opportunity to work after another; it is placing one community in the arena of testing in place of another community. For example, in India, the native Rajas were replaced by Mughals. Then they were removed and the Britishers were made their successors. Later, they (the British) were made to leave the country, making way for the majority community. In all these cases, the ‘one coming afterwards’ was the successor (khalifah) of the earlier one.
’’پیغمبر اپنی قوموں کے پاس بینات کے ساتھ آئے مگر انھوں نے نہ مانا‘‘۔ بینہ جمع بینات کے معنی دلیل کے ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کا داعی ہمیشہ بینات کی بنیاد پر اٹھتا ہے۔لوگوں کو اسے دلائل کی سطح پر پہچاننا پڑتاہے۔ جو لوگ ظاہری عظمتوں اور عوامی استقبالیوں میں خداکے داعی کو پانا چاہیں وہ کبھی اس کو نہیں پائیں گے، کیونکہ خدا کا داعی وہاں موجود نہیں ہوتا۔ نبی معجزہ دکھاتاہے۔ مگر معجزہ آخری مرحلہ میں اتمام حجت کے ليے آتاہے، دعوتی مرحلہ میں سارا کام دلائل کی بنیاد پر ہوتاہے۔
کسی شخص یا گروہ کا ظالم ہونا یہ ہے کہ وہ دلیل کے روپ میں ظاہر ہونے والی دعوت خداوندی کو نہ پہچانے اور اپنے خود ساختہ معیار پر نہ پانے کی وجہ سے اس کا انکار کردے۔ ایسے لوگ اپنی اس روش کی وجہ سے خدائی قانون کی زد میں آجاتے ہیں۔
ماضی کی جن قوموں پر انکار نبوت کے جرم میں خدا کا عذاب نازل ہوا وہ سرے سے نبوت کی منکر نہ تھیں۔یہ تمام قومیں کسی نہ کسی سابق پیغمبر کو مانتی تھیں۔ البتہ انھوں نے وقت کے پیغمبر کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ پچھلے پیغمبر کا معاملہ یہ تھا کہ اس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات قائم ہوگئی تھیں اور قومی عصبیتیں اس کے ساتھ وابستہ ہوچکی تھیں۔ جب کہ معاصر پیغمبر ابھی اس قسم کی اضافی خصوصیات سے خالی تھا۔ انھوں نے اس گزرے ہوئے پیغمبر کا اقرار کیا جو نسلوں کی روایات کے نتیجہ میں ان کا قومی پیغمبر بن چکا تھا، جس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا تاریخی عظمت کے مینار سے اپنے کو منسوب کرنے کے ہم معنی تھا۔ انھوںنے اپنے قومی پیغمبر کو پیغمبر مانا مگر اس پیغمبر کا انکار کردیا جس کو صرف دلیل اور برہان کے ذریعہ جانا جاسکتا تھا۔
یہ جرم خدا کی نظر میں اتنا شدید تھا کہ وہ لوگ نبی کے منکر قرار دے کر ہلاک کرديے گئے۔
’’پھر ہم نے اس کے بعد تم کو ملک میں خلیفہ بنایا‘‘۔ خلیفہ کے اصل معنی ہیں بعد کو آنے والا۔ یہ لفظ جانشین، خاص طورپر، اقتدار میں جانشین کے لیے بولا جاتاہے۔ یہ جانشینی انسان کی ہوتی ہے، نہ کہ خدا کی۔ کوئی انسان اقتدار میں خدا کا جانشین نہیں ہوسکتا۔انسان ہمیشہ کسی مخلوق کا جانشین ہوتاہے۔ قرآن میں جہاں بھی خلافت کا لفظ آیا ہے وہ مخلوق کی جانشینی کے لیے ہے، نہ کہ خدا کی جانشینی کے لیے۔
کسی کو خلیفہ (جانشین) بنانا اعزاز کے لیے نہیں بلکہ صرف امتحان کے لیے ہوتاہے۔ جانشین بنانے کا مطلب ایک کے بعد دوسرے کو کام کا موقع دینا ہے، ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو امتحان کے میدان میں کھڑا کرنا ہے۔ جیسے ہندستان میں دیسی راجاؤں کی جگہ مغلوں کو اختیا ردیا گیا۔ پھر ان کو ہٹا کر انگریز ان کے جانشین بنائے گئے۔ اس کے بعد انھیں ملک سے نکال کر اکثریتی فرقہ کے لیے جگہ خالی کی گئی۔ ان میں سے ہر بعد کو آنے والا اپنے پہلے کا خلیفہ تھا۔