وَٱللَّهُ يَدۡعُوٓاْ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
And Allah invites to the Home of Peace and guides whom He wills to a straight path
Man is deceived by the apparent conditions of the world. He considers a transient thing as a permanent one. He begins to think that a life of happiness and the comforts which he likes to have are within his reach in this present world itself. In reality, the world of human wishes is going to take shape in the Hereafter, but it will be available only to those who try to attain it in accordance with the method shown by God. Even supposing that a man manages to obtain everything he wants in the world, he still has no power to keep his life free of trouble and sorrow. Here some fear is attached to every happiness: every success here soon falls prey to some trouble; a life free of trouble and sorrow is that unique life which would be available to man only in the atmosphere of Paradise. Those who are able to discover this secret will be the ones who will follow the path to Paradise and ultimately reach the eternal heaven of God.
دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔
راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941
آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔
2 further citations are on recordings that are not available on YouTube at the moment, so they are not shown here. They are still counted above and included in the download.