إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ ٱلنَّاسَ شَيۡـٔٗا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
Indeed, Allah does not wrong the people at all, but it is the people who are wronging themselves
Certain rejectors of Truth are clearly such right from the beginning. But the clever ones among them make a show of attentively listening, as if they really want to understand things, though in their hearts they maintain that they do not have to understand. They look at the signs of the veracity of the Prophet as if they want to observe them with an open heart, though they are already determined not to observe and not to accept. The preacher is thus misled into thinking that they are about to accept the Truth. But, in the eyes of God, they are people who are deaf in spite of having ears and blind in spite of having eyes. Such people do not receive inspiration from God to accept the Truth. God has blessed man with superior capacities. If he utilises these capacities, he will never go astray. But man, finding himself free, misunderstands things. He falls to indulging in utter arrogance. This happens because he fails to understand God’s plan. The things given to him purely for the purpose of putting him to the test are taken by him to be rightfully his.
ایمان نہ لانے والے خدا کی نظر میں مفسد ہیں ۔ کیوں کہ اپنی فطرت کو بگاڑ کر ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔ ایسا آدمی اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا ہے، وہ اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا، وہ کھلے کھلے دلائل کو جھوٹے الفاظ بول کر نظر انداز کردیتاہے، وہ سن کر نہیں سنتا اور سمجھنے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ حق کے مقابلے میں اپنے تعصبات اور اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔
بحث ومناظرہ کرنے والے لوگ آخر وقت تک اپنی بحث جاری رکھتے ہیں۔ ’’میرا معاملہ میرے ساتھ ہے اور تمھارا معاملہ تمھارے ساتھ‘‘۔ اس قسم کا جملہ کہنا ان کو اپنی شکست نظر آتاہے، مگر داعی فتح وشکست کی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرتاہے۔ اس ليے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخاطب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے اور مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو وہ یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے یہاںہونا ہے۔ خدا کی میزان میں جو شخص جیسا نکلے گا ویسا ہی اس کا انجام ہوگا۔
حق کو نہ ماننے والوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو شروع سے اپنا منکر ہونا ظاہر کردیتا ہے۔ مگر زیادہ ہوشیار قسم کے لوگ یہ کرتے ہیں کہ بظاہر وہ باتوں کو اس طرح سنتے ہیں گویا کہ وہ سچ مچ سمجھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دل میں یہ ہوتاہے کہ اس کو سمجھنا نہیں ہے۔ وہ داعی کی صداقت کی نشانیوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ کھلے دل سے اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا ذہن پہلے سے یہ طے كيے ہوئے ہوتاہے کہ اس کو دیکھنا اور ماننا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی ظاہری سادگی سے داعی اس خوش گمانی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ قبولیت حق کے قریب ہیں۔ مگر خدا کی نظر میں وہ ایسے لوگ ہیں جوکان رکھتے ہوئے بہرے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بن جائیں۔ ایسے لوگوں کو کبھی خدا کی طرف سے قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔
خدا نے انسان کو بہترین صلاحیتیں دی ہیں۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کو استعمال کرے تو وہ کبھی گمراہ نہ ہو۔ مگر انسان اپنے کو آزاد پاکر غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ بے جا سرکشی کرنے لگتاہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے کہ اس نے خدا کی اسکیم کو نہیں سمجھا، جو چیز اس کوآزمائش کے طورپر دی گئی تھی اس کو اس نے اپنا حق سمجھ لیا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →