وَمَا تَكُونُ فِي شَأۡنٖ وَمَا تَتۡلُواْ مِنۡهُ مِن قُرۡءَانٖ وَلَا تَعۡمَلُونَ مِنۡ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيۡكُمۡ شُهُودًا إِذۡ تُفِيضُونَ فِيهِۚ وَمَا يَعۡزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثۡقَالِ ذَرَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَلَآ أَصۡغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡبَرَ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٍ
And, [O Muhammad], you are not [engaged] in any matter or recite any of the Qur'an and you [people] do not do any deed except that We are witness over you when you are involved in it. And not absent from your Lord is any [part] of an atom's weight within the earth or within the heaven or [anything] smaller than that or greater but that it is in a clear register
All of God’s gifts to man—whether agricultural produce or other things which are useful to man—are divine provision (rizq). As man utilizes them in the way shown by God, he developes a feeling of gratitude towards his Maker. But Satan wants man to fail to remember God while making use of divine provisions. In ancient times Satan induced people to associate with these provisions the rites due to false gods and goddesses so that in availing of them, they would forget the remembrance of their true Lord. In the present age Satan is achieving this purpose by advancing material explanations for things. God-gifted things are being shown to people as resulting from certain material factors, so that when they receive these things, they will not treat these bounties as the provision (rizq) of God but as the outcome of worldly toils.
دعوت اس دنیا کے تمام کاموںمیں مشکل ترین کام ہے۔ داعی اپنے پورے وجود کو دعوتی عمل میں شامل کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی پیغام کا داعی بن سکے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ وہ ہے جو مخاطبین کی طرف سے پیش آتاہے۔
داعی جب خدا کے دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرتاہے اور اس کو کھلے دلائل کی زبان میں مبرہن کردیتاہے تو وہ تمام لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتا کر دین دار بنے ہوئے ہوں یا دینی پیشوائی کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد پروپیگنڈا، سازشیں، حتی کہ جارحانہ کارروائیاں، ہر چیز کو وہ اپنے لیے جائز کرلیتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی انھیں موقع دیتی ہے اور وہ داعی کے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ دلیل کی طاقت تمام تر ایک طرف ہوجاتی ہے اور مادیات کی طاقت تمام تردوسری طرف۔
یہ صورت حال بلا شبہ بے حد سخت ہے۔ اس کے بعد ایک طرف یہ ہوتاہے کہ مخالفین حق کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف داعی پر بھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیا خدا اس معاملے میں غیر جانب دار ہے۔ کیا وہ مجھے حق وباطل کے اس معرکہ میں ڈال کر خود علیحدہ ہوگیا ہے۔
مگرایسا نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا حق کا ساتھ نہ دے۔ مخالفین کا بے دلیل ہوجانا اور دلیل کی قوت کا تمام تر داعی کی طر ف ہونا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا داعی کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے گروہ کے ساتھ۔ کیوں کہ دلیل موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے جس کے ساتھ دلیل ہے اس کے ساتھ گویا خدا ہے۔ مخالفینِ حق کو جارحیت کا موقع صرف اس آزادی کی وجہ سے مل رہا ہے جو امتحان کی خاطر انھیں دی گئی ہے۔ امتحانی دنیا کے ختم ہوتے ہی یہ صورت حال بدل جائے گی۔ اس وقت عزت وبرتری اس کے لیے ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا تھا۔ جو لوگ دلیل سے خالی تھے وہ وہاں کی دنیا میں رسوا اور ناکام ہو کر رہ جائيں گے۔ اللہ کے سچے داعیوں کا گروہ خداکے دوستوں کا گروہ ہے۔ اللہ ان کو آخرت میں ایک ایسی اعلیٰ زندگی کی خوش خبری دیتا ہے جہاں نہ انھیں پچھلی زندگی کے لیے کوئی پچھتاوا ہوگا اور نہ اگلی زندگی کے لیے کوئی اندیشہ۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →