أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
Those are the ones who will have lost themselves, and lost from them is what they used to invent
The real reasons for people’s sinful behaviour and their failure to treat the divine message with due respect were their lack of any firm belief in the Hereafter and their having no fear in their hearts for Almighty God. It was this fearlessness which caused them to treat the divine message without the seriousness it deserved. And anything about which an individual is not serious will fail to elicit the correct response from him. But such insincerity and lack of seriousness will vanish when people stand before the Lord of the Universe on the Day of Judgement. At that time they will have lost their present freedom. The worldly goods and resources on the strength of which they had become arrogant, will turn into God’s tape-recorders, which will start giving evidence against them. At that time it will be abundantly clear that the reason for their rejection of God’s preacher was not that they were unable to understand him, but rather that they were not serious about him. The horror of Doomsday will suddenly make them serious. At that time, in the face of their own helplessness, they will understand all that they had been unable to understand while living in the world in an atmosphere of freedom. God has blessed man with fine capabilities and talents. If he utilises them, he can understand any subject in depth. In his worldly matters, he actually utilises these talents, but when it comes to the Hereafter, he becomes deaf, in spite of having ears. He becomes blind, in spite of having eyes. Man’s success depends entirely upon his sincerity. Those who are sincere in worldly matters are successful in them. Similarly, those who are sincere in matters of the Hereafter will be successful in the Hereafter.
’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔
اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔
مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔
اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔
آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →