وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَزَيَّنَّـٰهَا لِلنَّـٰظِرِينَ
And We have placed within the heaven great stars and have beautified it for the observers
This does not refer simply to the wonderful appearance of the sky at night. There are innumerable stars spread out in the universe, grouped in clusters, called constellations. Our own constellation is called the ‘Milky Way.’ During the night, when the atmosphere is free of clouds, dust, etc., when one stands on open ground and casts a glance at the sky, the array of twinkling stars in the vastness of the heavens is so wonderfully glorious that, on seeing it, man becomes overwhelmed by the feeling of God’s greatness and majesty. Those who used to tell the Prophet he should show an angel descending from heaven were asked, ‘Is the scene of the stars in the sky shown to you every day not enough to awaken your consciousness and is it not enough to melt your hearts? Must you then demand further miracles?’
کائنات میں بے شمار ستارے پھیلے ہوئے ہیں۔ مگر یہ ستارے مجموعوں کی صورت میں ہیں۔ ہر ایک مجموعہ کو ایک کہکشاں کہاجاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بروج سے مراد یہ کہکشائیں ہوں۔
وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ میں سادہ طور پر صرف ’’زینت‘‘ مراد نہیں ہے بلکہ آسمان کا وہ حیران کن منظر مراد ہے جو رات کے وقت اس کا ہوتاہے۔ رات کو جب بادل اور گردوغبار نہ ہوں، کھلے میدان میں کھڑے ہو کر آسمان کی طرف نظر ڈالیں تو وسیع آسمان میں جگمگاتے ہوئے ستاروں کا منظر اتنا حیران کن حد تک شاندار ہوتاہے کہ آدمی اس کو دیکھ کر خدا كي عظمت وجلال کے احساس میں ڈوب جائے۔
پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان فلکیات کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، اس سے بھی ’’زینت‘‘ کی توجیہہ ہوتی ہے۔ جدید فلکیاتی مطالعے کے بعد انسان اس حقیقت کو ماننے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔اس دریافت سے انسان کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہوجاتا ہے۔ اب سائنسداں عام طورپر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹلجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔
جو لوگ پیغمبر سے کہتے تھے کہ آسمان سے فرشتہ اترتا ہوا ہمیں دکھاؤ ان سے کہاگیا کہ تاروں بھرے آسمان کا وہ منظر جو ہر روز تمھارے سامنے کھولا جاتا ہے کیا وہ تمھارے شعور کو جگانے اور تمھارے دلوںکو پگھلانے کے لیے کم ہے کہ تم دوسرے معجزات کا تقاضا کرتے ہو۔
زمین پر انسان کے ساتھ شیطان بھی بسائے گئے ہیں۔ یہاں شیاطین کو پوری آزادی ہے کہ وہ جدھر چاہیں جائیں اور جس طرح چاہیں لوگوں کو بہکائیں، مگر زمین سے ماوراء جو خدا کی دنیا ہے اس میں شیاطین کی پرواز کے لیے ناقابل عبور رکاوٹیں قائم کردی گئی ہیں۔ وہ ایک خاص حد سے آگے اس کے اندر داخل نہیں ہوپاتے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →