وَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ إِذَا كِلۡتُمۡ وَزِنُواْ بِٱلۡقِسۡطَاسِ ٱلۡمُسۡتَقِيمِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلٗا
And give full measure when you measure, and weigh with an even balance. That is the best [way] and best in result
Every kind of business in the world is based on weights and measures. Therefore, it has been ordained that weights and measures should be accurate. There are two aspects to this. First, it is in accordance with human dignity, for the giving of short weight is a debasement of character. The second great merit is that it gives a stimulus to business, as total trust is the foundation of commercial progress. Proper weight and measurement are a sine qua non for the establishment of good business relations in any given society.
نابالغ یتیم کے سرپرست اس کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ مگر یتیم کا مال ان اولیاء کے ہاتھ میں اس وقت تک کے لیے بطور امانت ہے جب تک کہ یتیم عاقل وبالغ نہ ہوجائے۔ اولیاء کو چاہیے کہ وہ یتیم کے مال کو ہاتھ نہ لگائیں۔ وہ صرف اس وقت اس میں تصرف کرسکتے ہیں جب کہ خود یتیم کی خیر خواہی اور ترقی کا تقاضا ہو۔ اور یتیم جیسے ہی اپنے نفع نقصان کو سمجھنے کے قابل ہو اس کا مال پور ی طرح اس کے حوالے کردیا جائے۔
عہد کو پورا کرنا انسانی کردار کی اہم ترین صفت ہے۔ جو آدمی ایک عہد کرے اور پھر اس کو پورا نہ کرے وہ بالکل بے قیمت انسان ہے، بندوں کے نزدیک بھی اور خدا کے نزدیک بھی۔
’’عہد اللہ کے نزدیک قابل پرسش ہے‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے عہد کرتاہے تو یہ صرف دو انسانوں کا باہمی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں خدا بھی تیسرے فرق کی حیثیت سے شریک ہوتاہے۔ آدمی کو عہد توڑتے ہوئے ڈرنا چاہیے کہ عہد کا دوسرا فریق صرف ایک کمزور انسان نہیں ہے بلکہ وہ خدا ہے جس کی پکڑ سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔
دنیا میں ہر قسم کا کاروبار ناپ تول کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس سلسلہ میں حکم دیاگیا کہ ناپ تول بالکل ٹھیک رکھا جائے اور جو چیز دی جائے پورے ناپ تول کے ساتھ دی جائے۔
یہ طریقہ بیک وقت اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ انسانی عظمت کے مطابق ہے۔ ناپ تول میں فرق کرناکردار کی پستی ہے۔ اور ناپ تول میں پورا دینا کردار کی بلندی۔ اس کادوسرا عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس سے کاروبار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ کاروبار کی ترقی کی بنیاد تمام تر اعتماد پر ہے اور ناپ تول صحیح دینا وہ چیز ہے جس سے کسی شخص کا کاروبار ی اعتماد لوگوں کے درمیان قائم ہوتاہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →