بَلَىٰۚ مَنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَلَهُۥٓ أَجۡرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
Yes [on the contrary], whoever submits his face in Islam to Allah while being a doer of good will have his reward with his Lord. And no fear will there be concerning them, nor will they grieve
Once the Jews had set their minds against the message of Islam as being worthless, they became alarmed by the heartfelt acclaim with which many were receiving it. They considered themselves the only ones qualified to pass decrees on truth and falsehood: how could others be allowed to believe in what they themselves had chosen to disbelieve? The first step that they took was to incite the polytheists to rise up against the Muslims. Secondly, they tried to mislead Muslim converts about their new religion, putting doubts into their minds in the hope that they would revert to the religion of their forefathers. It was only natural that this should provoke the Muslims, but God told them that this was not the time for violent reaction. Muslims should always be patient, since patience prevents one from taking negative retaliatory measures in the heat of the moment. They should be steadfast in prayers, for prayer brings one closer to God. They should never fail in the payment of the prescribed alms (zakat), for a society in which the rich are willing to share with the poor will be based on compassion; there will be a real sense of togetherness among its members. The Jews used to tell new Muslim converts that if they had to forsake their ancestral religion, they should become Jews or Christians. Being the descendants of saints and prophets throughout history, they were the ones who would go to heaven. But the Quran tells us that one does not merit entry into heaven by dint of belonging to a certain community. Everyone will be judged according to his own actions. National status is of no significance in the sight of God. To be sincere in one’s faith is to become so devoted to God that everything else assumes secondary importance. Prejudices, personal loyalties, material or worldly interests should not come in the way of responding to the call of truth.
قرآن کی آواز اگرچہ بہت سے لوگوں کے لیے نامانوس آواز تھی۔ تاہم انھیں میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس کو اپنے دل کی آواز پاکر اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے جارہے تھے۔ یہ صورت حال قدیم آسمانی کتابوں کی حامل قوم کے لیے ناقابلِ برداشت بن گئی۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی چیز کی ترقی کے ہم معنی تھی جس کو وہ بے حقیقت سمجھ کر نظر انداز کيے ہوئے تھے۔ انھوں نے یہ کیا کہ ایک طرف مشرکین کو ابھار کر ان کو اسلام کے خلاف جنگ پر آمادہ کردیا۔ دوسری طرف وہ نئے اسلام لانے والوں کو طرح طرح کے شبہات اور مغالطے میں ڈالتے تاکہ وہ قرآن اور صاحب قرآن سے بد ظن ہوجائیں ، اور دوبارہ اپنے آبائی مذہب کی طرف واپس چلے جائیں ۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر ایسے لوگوں کے خلاف اشتعال پیدا ہونا فطری تھا۔ مگر اللہ نے اس سے ان کو منع فرمادیا۔ حکم ہوا کہ ان سے بحث مباحثہ یا ان کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی موجودہ مرحلہ میں ہر گز نہ کی جائے۔ اس معاملہ میں تمام تر اللہ پر بھروسہ کیا جائے اور اس وقت کا انتظار کیا جائے جب اللہ تعالیٰ حالات میں ایسی تبدیلی کردے کہ ان کے خلاف کوئی فیصلہ کن کارروائی کرنا ممکن ہوجائے۔ بروقت مسلمانوں کو چاہيے کہ وہ صبر کریں اور نماز اورزکوۃ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجائیں ۔ صبر آدمی کو اس سے بچاتاہے کہ وہ رد عمل کی نفسیات کے تحت منفی کارروائیاں کرنے لگے۔ نماز آدمی کو اللہ سے جوڑتی ہے۔ اور اپنے مال میں دوسرے بھائیوں کو حق دار بنانا وہ چیز ہے جس سے باہمی خیر خواہی اور اتحاد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
نئے اسلام لانے والوں سے وہ کہتے کہ تم کو اپنا آبائی مذہب چھوڑنا ہے تو نیا مذہب اختیار کرنے کے بجائے پہلے سے موجود آسمانی مذاہب میں سے کوئی ایک اختیار کر لو، یہودی بن جاؤ یا پھر عیسائی بن جاؤ۔ کیوں کہ جنت تو یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے ہے جو ہمیشہ سے نبیوں اور بزرگوں کی جماعت رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ کسی گروہ سے وابستگی کسی کو جنت کا مستحق نہیں بناتی۔ جنت کا فیصلہ آدمی کے اپنے عمل کی بنیاد پر کیا جاتاہے، نہ کہ گروہی فضیلت کی بنیاد پر۔ احسان کے معنی ہیں کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ اسلام میں اچھا ہونا یہ ہے کہ اللہ کے لیے آدمی کی حوالگی اتنی کامل ہو کہ ہر دوسری چیز کی اہمیت اس کے ذہن سے حذف ہوجائے۔ گروہی تعصبات، شخصی وفاداریاں اور دنیوی مصالح کوئی بھی چیز اس کے لیے اللہ کی آواز کی طرف دوڑ پڑنے میں رکاوٹ نہ بنے۔