ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ
The truth is from your Lord, so never be among the doubters
Whenever God reveals some truth to the world, it is supported by clear arguments. No one can then fail to recognize it to be the truth. Those who do not make the truth their own, show that they had never realised God, for, if they had, they would have recognized His word when they heard it. Those who find words to reject the truth think that they have discovered strong arguments to justify their stand. They think that they are standing on firm logical ground. But very soon they realize that those words were nothing but imaginary props, which they themselves had devised to give false satisfaction to their egos.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقےکی پیروی کرتے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے ابتداميں بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا قبلہ رہا ہے۔ یہود کو جب اللہ تعالیٰ نے دین کي امامت وپیشوائی سے معزول کیا تو اس کے بعد یہ بھی ضروری ہوگیا کہ دین کو زوال یافتہ روایات سے جدا کردیا جائے تاکہ خدا کا دین ہر اعتبار سے اپنی خالص شکل میں نمایاں ہوسکے۔ اسی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبدیلیٔ قبلہ کے حکم کا انتظار رہتا تھا۔ چنانچہ ہجرت کے دوسرے سال یہ حکم آگیا۔ بنی اسرائیل کے انبیاء جو یہود کو خبر دار کرنے کے لیے آئے، وہ پہلے ہی اس فیصلۂ الٰہی کی بابت یہود کو بتا چکے تھے اور ان کے علما اس معاملہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ تاہم ان میں صرف چند لوگ (جیسے عبد اللہ بن سلّام اور مخيریق رضی اللہ عنہما) ایسے نکلے جنھوں نے آپ کی تصدیق کی اور اس بات کا اقرار کیا کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے دین کا اظہار فرمایا ہے۔ان کے نہ ماننے کی وجہ محض ان کی خواہش پرستی تھی۔ وہ جن گروہی خوش خیالیوں میں جی رہے تھے، ان سے وہ نکلنا نہیں چاہتے تھے۔ اور جو انکار محض خواہش پرستی کی بنا پر پیداہو اس کو توڑنے میں کبھی کوئی دلیل کامیاب نہیں ہوتی۔ ایسا آدمی دلائل کے انکار سے اپنے ليے وہ رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے جو اس کے خالق نے صرف دلائل کے اعتراف میں رکھا ہے۔
اللہ کی طرف سے جب کسی امرِ حق کا اعلان ہوتاہے تو وہ ایسے قطعی دلائل کے ساتھ ہوتا ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اس کی صداقت کو پہچاننے سے عاجز نہ رہے۔ایسی حالت میں جو لوگ شبہ میں پڑیں وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ خدا سے آشنا نہ تھے۔ اس ليے وہ خدا کی بولی کو پہچان نہ سکے۔ اسی طرح وہ لوگ جو حق کے خلاف کچھ الفاظ بول کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے مضبوط استدلالی سہارے دریافت کرليے ہیں، بہت جلد ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ محض فرضی سہارے تھے جو ان کے نفس نے اپنی جھوٹی تسکین کے لیے وضع کرليے تھے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →