ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ
Allah - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Sustainer of [all] existence. Neither drowsiness overtakes Him nor sleep. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Who is it that can intercede with Him except by His permission? He knows what is [presently] before them and what will be after them, and they encompass not a thing of His knowledge except for what He wills. His Kursi extends over the heavens and the earth, and their preservation tires Him not. And He is the Most High, the Most Great
Unlike sincere devotees, there are some who never accept religion at the cost of the surrender of their being. They are never serious in matters of religion, and as a result believe that intercession by certain religious seers or the performance of certain rituals, or the observance of certain forms is enough to earn salvation in the Hereafter. Due to their insincerity about the Hereafter, they fail to understand that Doomsday is the Day of the manifestation of God’s power and majesty. Hoping that the performance of certain superficial rituals might earn them God Almighty’s pleasure is indeed an underestimation of God’s divinity. This only increases their sinfulness in the eyes of God. The truth comes to one in the form of arguments, and one who is not sincere summarily rejects them. This is one of Satan’s temptations. Guidance comes only to those who scrupulously resist Satan’s temptations and, recognizing the divine arguments, wholeheartedly concur in them.
خدا کو وہی پاتا ہے جو انفاق کی قیمت دے کر خدا کو اختیار کرے۔ اور کوئی آدمی جب خدا کو پالیتا ہے تو وہ ایک ایسی روشنی کو پالیتا ہے جس میں وہ بھٹکے بغیر چلتا رہے۔ یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کے برعکس، جو شخص انفاق کی قیمت ديے بغیر خدا کو اختیار کرے وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتاہے۔ جہاں شیطان اس کو بہکا کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔
انفاق سے مراد اپنے آپ کواور اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اپنی مصلحتوں کو قربان کرکے دین کی طرف آگے بڑھنا ہے۔ آدمی جب کسی عقیدہ کو انفاق کی قیمت پر اختیار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرنے میں سنجیدہ (sincere) ہے۔ یہ سنجیدہ ہونا بے حد اہم ہے۔ کسی معاملہ میں سنجیدہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو آدمی پر اس معاملہ کے بھیدوں کو کھولتاہے۔ سنجیدہ ہونے کے بعد ہی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اور اس کے مقصد کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو، اور مقصد کے تمام پہلو اس پر واضح ہوں۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو اپنی ہستی کی حوالگی کی قیمت پر دین کو اختیار نہ کرے۔ ایسا شخص کبھی دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا، اور اس بنا پر وہ آخرت کے معاملہ کو ایک آسان معاملہ فرض کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ بزرگوں کی سفارش یا دین کے نام پر کچھ رسمی اور ظاہری کارروائیاں آخرت کي نجات کے لیے کافی ہیں۔ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راز کو نہ سمجھے گا کہ آخرت تو مالکِ کائنات کے عظمت و جلال کے ظہور کا دن ہے۔ ایسے ایک دن کے بارے میں محض سرسری چیزوں پر کامیابی کی امید کرلینا خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرناہے جو خدا کے یہاںآدمی کے جرم کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ وہ اس کی مقبولیت کا سبب بنے— خدا کی بات آدمی کے سامنے دلیل کی زبان میں آتی ہے اور وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردیتا ہے۔ یہی شیطانی وسوسہ ہے۔ ہدایت اس کو ملتی ہے جو شیطان کے وسوسہ سے اپنے کو بچائے اور خدائی دلیل کو پہچان کر اس کے آگے جھک جائے۔