أَيَوَدُّ أَحَدُكُمۡ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٞ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَابٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلۡكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٞ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعۡصَارٞ فِيهِ نَارٞ فَٱحۡتَرَقَتۡۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُونَ
Would one of you like to have a garden of palm trees and grapevines underneath which rivers flow in which he has from every fruit? But he is afflicted with old age and has weak offspring, and it is hit by a whirlwind containing fire and is burned. Thus does Allah make clear to you [His] verses that you might give thought
When an individual plants an orchard in his youth, he does so in the hope that he will enjoy its fruits when he grows old. How unfortunate, then, is one who sees his beautiful orchard reduced to rubble towards the end of his days, just when he stands in greatest need of it. Now time has run out on him and he has no chance of nurturing new saplings. This is exactly what will happen to those who engage themselves in a religious cause, purely out of lust for worldly prestige and profit. Outwardly, they appear to be engaged in pious works, but it is only in their form that their actions differ from those of the run-of-the-mill materialists of this world. In reality, there is no difference between the two types of people. Normally, people seeking worldly fame and prestige, choose worldly means of attaining their goals, whereas hypocritical people choose religious means of advancement towards the same worldly ends. All are aiming at the same mundane goals; only the ways in which they go about achieving them are different. People guided by worldly motives in all their actions will find no reward awaiting them in the Hereafter. God’s signs take an abtruse form. Only those who cultivate in themselves a capacity for reflection are able to decipher these signs and, through them, come to know God.
آدمی جب کسی چیز کے لیے عمل کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کے حق میں اپنی قوت ارادی کو مضبوط کرتاہے۔ اگر وہ اپنی خواہش کے تحت عمل کرے تو اس نے اپنے دل کو اپنی خواہش پر جمایا۔ اس کے برعکس آدمی اگر وہاں عمل کرے جہاں خدا چاہتا ہے کہ عمل کیا جائے تو اس نے اپنے دل کو خدا پر جمایا۔ دونوں راہوں میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی آسان حالات میں عمل کرنا ہوتا ہے اور کبھی مشکل حالات میں۔ تاہم مواقع جتنے شدید ہوں، آدمی کوجتنا زیادہ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا عمل کرنا پڑے اتنا ہی زیادہ وہ اپنے پیش نظر مقصد کے حق میں اپنے ارادہ کو مستحکم کرے گا۔ عام حالات میں اللہ کی راہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرنا بھی باعثِ ثواب ہے۔ مگر جب مخالف اسباب کی وجہ سے خصوصی قوت ارادی کو استعمال کرکے آدمی اللہ کی راہ میں اپنا اثاثہ دے تو اس کا ثواب اللہ کے یہاں بہت زیادہ ہے — جس مدمیں خرچ کرنا دنیوی اعتبار سے بے فائدہ ہو اس میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا، جس کو دینے کا دل نہ چاہے اس کو اللہ کے لیے دینا، جس سے خوش معاملگی پر طبیعت آمادہ نہ ہو اس سے اللہ کی خاطر خوش معاملگی کرنا، وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو سب سے زیادہ خدا پرستی پر جماتی ہیں اور اس کو خدا کی خصوصی رحمت و نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آدمی جوانی کی عمر میں باغ لگاتا ہے تاکہ بڑھاپے کی عمر میں اس کا پھل کھائے۔ پھر وہ شخص کیسا بدنصیب ہے جس کا ہرا بھرا باغ اس کی آخر عمر میںعین اس وقت برباد ہوجائے جب کہ وہ سب سے زیادہ اس کا محتاج ہو اور اس کے لیے وہ وقت بھی ختم ہوچکا ہو جب کہ وہ دوبارہ نیا باغ لگائے اور اس کو از سر نو تیار کرے۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جنھوںنے دین کا کام دنیوی عزت ومنفعت کے لیے کیا۔ وہ بظاہر نیکی اور بھلائی کا کام کرتے رہے۔ مگر ان کا کام صرف شکلا ً ہی عام دنیاداروں سے مختلف تھا۔ باعتبار حقیقت دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ عام دنیادار جس دنیوی ترقی اور ناموری کے لیے دنیوی نقشوں میں دوڑ دھوپ کررہے تھے، اسی دنیوی ترقی اور ناموری کے لیے انھوںنے دینی نقشوں میں دوڑ دھوپ جاری کردی۔ جو شہرت وعزت دوسرے لوگ دنیا کی عمارت میں اپنا اثاثہ خرچ کرکے حاصل کررہے تھے، اسی شہرت وعزت کو انھوں نے دین کی عمارت میں اپنا اثاثہ خرچ کرکے حاصل کرنا چاہا۔ ایسے لوگ جب مرنے کے بعد آخرت کے عالم میں پہنچیں گے تو وہاں ان کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ انھوںنے جو کچھ کیا اِسی دنیا کے لیے کیا۔ پھر وہ اپنے کيے کا پھل اگلی دنیا میں کس طرح پاسکتے ہیں— خدا کی نشانیاں ہمیشہ ظاہر ہوتی ہیں۔ مگر وہ خاموش زبان میں ہوتی ہیں۔ ان سے وہی سبق لے سکتا ہے جو اپنے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرچکا ہو۔
1 further citation is on a recording that is not available on YouTube at the moment, so it is not shown here. It is still counted above and included in the download.