ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمۡرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَنۡ عَادَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
Those who consume interest cannot stand [on the Day of Resurrection] except as one stands who is being beaten by Satan into insanity. That is because they say, "Trade is [just] like interest." But Allah has permitted trade and has forbidden interest. So whoever has received an admonition from his Lord and desists may have what is past, and his affair rests with Allah. But whoever returns to [dealing in interest or usury] - those are the companions of the Fire; they will abide eternally therein
The word ‘riba’ in the original is translated here as ‘usury’, which means the practice of lending money to people at unfairly high rates of interest.
بندوں کے درمیان باہمی طورپر جو معاشی تعلقات مطلوب ہیں ان کی علامت زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حقوق کا اعتراف یہاںتک کرتاہے کہ وہ خود اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اپنے بھائی کو دیتاہے۔ جو دین حقوق شناسی کا ایسا ماحول بنانا چاہتا ہو وہ سود کے دولت پرستانہ طریقہ کو کسی طرح قبول نہیں کرسکتا۔ ایسے معاشرہ میں باہمی لین دین تجارت کے اصول پر ہوتا ہے، نہ کہ سودکے اصول پر تجارت میں بھی آدمی نفع لیتاہے۔ مگر تجارت کا جو نفع ہے وہ آدمی کی محنت اور اس کے خطرات مول لینے کی قیمت ہوتا ہے۔ جب کہ سود کا نفع محض خود غرضی اور زر اندوزی کا نتیجہ ہے۔
سود کا کاروبار کرنے والا اپنی دولت دوسرے کو اس ليے دیتاہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی دولت کو مزید بڑھائے۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوتاہے کہ اس کا سرمایہ یقینی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس عمل کے دوران وہ خود اپنے اندر جو انسان تیار کرتاہے وہ ایک خود غرض اور دنیا پرست انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اپنی کمائی میں سے صدقہ کرتاہے، جو دوسروں کی ضرورت مندی کو اپنے ليے تجارت کا سودا نہیں بناتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے کو شریک کرتا ہے، ایسا شخص اپنے عمل کے دوران اپنے اندر جو انسان تیار کررہا ہے وہ پہلے سے بالکل مختلف انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے دل میں دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ جو ذاتی دائرہ سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔
دنیا میں آدمی اس ليے نہیں بھیجا گیا ہے کہ وہ یہاں اپنی کمائی کے ڈھیر لگائے۔ آدمی کے لیے ڈھیر لگانے کی جگہ آخرت ہے۔ دنیا میں آدمی کو اس ليے بھیجا گیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں کون ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اس کو آخرت کی جنتی دنیامیں بسایا جائے۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے ان کو خدا جنت کا باشندہ بننے کے لیے چن لے گا، اور باقی تمام لوگ کوڑا کرکٹ کی طرح جہنم میں پھینک ديے جائیں گے — صدقہ کی روح حاجت مند کو اپنا مال خدا کے لیے دینا ہے اور سود کی روح استحصال کے لیے دینا۔صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی آخرت میں اپنے ليے نعمتوں کا ڈھیر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے ليے ڈھیر لگانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دو الگ الگ انسان ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا کے یہاں دونوں کا انجام یکساں قرار پائے۔ دنیا اسی کو ملتی ہے جس نے دنیا کے لیے محنت کی ہو، اسی طرح آخرت اسی کو ملے گی جس نے آخرت کے لیے اپنے اثاثہ کو قربان کیا۔