۞وَإِن كُنتُمۡ عَلَىٰ سَفَرٖ وَلَمۡ تَجِدُواْ كَاتِبٗا فَرِهَٰنٞ مَّقۡبُوضَةٞۖ فَإِنۡ أَمِنَ بَعۡضُكُم بَعۡضٗا فَلۡيُؤَدِّ ٱلَّذِي ٱؤۡتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَلۡيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥۗ وَلَا تَكۡتُمُواْ ٱلشَّهَٰدَةَۚ وَمَن يَكۡتُمۡهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٞ قَلۡبُهُۥۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٞ
And if you are on a journey and cannot find a scribe, then a security deposit [should be] taken. And if one of you entrusts another, then let him who is entrusted discharge his trust [faithfully] and let him fear Allah, his Lord. And do not conceal testimony, for whoever conceals it - his heart is indeed sinful, and Allah is Knowing of what you do
Everything in the universe is under God’s command. Right from dust particles to the stars, all are bound by God’s decreed plan. They must follow the path set for them by God. Man alone is the creature who finds that he may choose different paths of his own free will. But man does not possess freedom in an absolute sense: if he has freedom, it is so that he may be put to the test. Man has also to submit to the will of God like the rest of the universe. The life of restraint that the rest of the universe is obliged to follow must be followed voluntarily by man. He should not be deceived by the appearance of there being no one before or behind him. The truth of the matter is that at all times man is watched over by the Lord of the universe. He watches each and every thing, whether great or small, whether within him or without.
دو آدمیوں کے درمیان نقد معاملہ ہو تو لین دین ہو کر اسی وقت معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ مگر ادھار معاملات کی نوعیت مختلف ہے۔ ادھار معاملہ میں اگر ساری بات زبانی ہو تو کاغذی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بعد کو اختلاف پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ طرفین اپنے اپنے مطابق معاملہ کی تصویر پیش کرتے ہیں اور کوئی ایسی قطعی بنیاد نہیں ہوتی جس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کیا جاسکے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ادائيگی کے وقت اکثر دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا حل تحریر ہے۔ نقد معاملہ کو لکھ لیا جائے تو وہ بھی بہتر ہے۔ مگر ادھار معاملات کے لیے تو ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ تحریر میں لایا جائے اور اس پر گواہ بناليے جائیں۔ اختلاف کے وقت یہی تحریر فیصلہ کی بنیاد ہوگی۔ یہ مسلمان کے لیے تقویٰ اور عدل کی ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ کتابت شدہ شرائط کے مطابق وہ اپنے حقوق کو ادا کرکے خدا اور مخلوقکے سامنے بری الذمہ ہوجاتاہے۔
مسلمان خدا کے دین کے گواہ ہیں۔جس طرح اللہ کی بات کو جانتے ہوئے چھپانا جائز نہیں، اسی طرح انسانی معاملات میں کسی کے پاس کوئی گواہی ہو تو اس کو چاہيے کہ اس کو ظاہر کردے۔ گواہی کو چھپانا اپنے اندر مجرمانہ ذہن کی پرورش کرنا ہے اور معاملہ کے منصفانہ فیصلہ میں وہ حصہ ادا نہ کرنا ہے، جو وہ کرسکتا ہے۔ انسان کا ضمیر چاہتا ہے کہ جب ایک چیز حق نظر آئے تو اس کے حق ہونے کا اعتراف کیا جائے۔ اور جب ایک چیز ناحق دکھائی دے تو اس کے ناحق ہونے کا اعلان کیاجائے۔ ایسی حالت میں جو شخص اپنے وقار اور مصلحت کی خاطر اپنی زبان کو بند رکھتا ہے وہ گویا ایسا مجرم ہے جو اپنے جرم پر خود ہی گواہ بن گیا ہو۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →