وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ خَلِيفَةٗۖ قَالُوٓاْ أَتَجۡعَلُ فِيهَا مَن يُفۡسِدُ فِيهَا وَيَسۡفِكُ ٱلدِّمَآءَ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَۖ قَالَ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
And [mention, O Muhammad], when your Lord said to the angels, "Indeed, I will make upon the earth a successive authority." They said, "Will You place upon it one who causes corruption therein and sheds blood, while we declare Your praise and sanctify You?" Allah said, "Indeed, I know that which you do not know
The literal meaning of ‘khalifah’ or ‘caliph’ is ‘one who takes another’s place’—a successor. In the age of hereditary rule, it was generally used for a monarch who took the place of his predecessor. According to this usage, the word came to refer to one invested with power. When God created man to dwell on earth, He decreed that he might enjoy freedom of will. The angels became apprehensive of man being corrupted by this grant of power and free will and, as a consequence, spreading evil and causing bloodshed in the world. History showed that their fears were well founded. God was also fully aware of this possibility. But He had a particular reason for investing man with power and freedom on earth. If many human beings were to be corrupted by their power, there would also be a substantial number who, in spite of their power and freedom on earth, would acknowledge God’s greatness and power and their own helplessness. Such people would, of their own free will, adopt the path of submission and obedience to God. Although comparatively few in number, they would be specially prized above all others. They would be just like the food grains at harvest time, which, although greatly outweighed in bulk by chaff and straw, are the truly valued part of the crop. (Indeed if the chaff and straw are permitted to grow, it is solely so that people may have access to grain.)
خلیفہ کے لفظی معنی ہیں کسی کے بعد اس کی جگہ لینے والا، جانشین۔ وراثتی اقتدار کے زمانہ میں یہ لفظ کثرت سے حکمرانوں کے لیے استعمال ہوا جو ایک کے بعد دوسرے کی جگہ تخت پر بیٹھتے تھے۔ اس طرح استعمالی مفہوم کے لحاظ سے خلیفہ کا لفظ صاحب اقتدار کے ہم معنی ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ وہ ایک با اختیار مخلوق کی حیثیت سے زمین پر آباد ہوگا۔ فرشتوں کو اندیشہ ہوا کہ اختیار واقتدار پاکر انسان بگڑ نہ جائے اور زمین میں خوں ریزی کرنے لگے۔ فرشتوں کا یہ اندیشہ غلط نہ تھا۔ اللہ کو بھی اس امکان کا پورا علم تھا۔ مگر اللہ کی نظر اس بات پر تھی کہ انسانوں میںاگر بہت سے لوگ آزادی پاکر بگڑیں گے تو ایک قابل لحاظ تعداد ان لوگوں کی بھی ہوگی جو آزادی اور اختیار کے باوجود اپنی حیثیت کو اور اپنے رب کے مقام کو پہچانیں گے اور کسی دباؤ کے بغیر خود اپنے ارادہ سے تسلیم واطاعت کا طریقہ اختیار کریں گے۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اگرچہ نسبتاً کم تعداد میں ہوں گے مگر وہ فصل کے دانوں کی طرح قیمتی ہوں گے۔ فصل میں لکڑی اور بھس کی مقدار ہمیشہ بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ مگر دانے کم ہونے کے باوجود، اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ ان کی خاطر لکڑی اور بھس کے ڈھیر کو بھی اُگنے اورپھیلنے کا موقع دے دیا جاتا ہے۔
اللہ نے اپنی قدرت سے آدم کی تمام ذرّیت کو بیک وقت ان کے سامنے کردیا۔ پھرفرشتوں سے کہا کہ دیکھو یہ ہے اولاد آدم۔ اب بتاؤ کہ ان میں کون کون اور کیسے کیسے لوگ ہیں۔ فرشتے عد م واقفیت کي وجہ سے نہ بتا سکے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ان کے ناموں، بالفاظ دیگر شخصیتوں سے آگاہ کیا اور پھر کہا کہ فرشتوں کے سامنے ان کا تعارف کراؤ۔ جب آدم نے تعارف کرایا تو فرشتوں کو معلوم ہوا کہ آدم کی اولاد میں فسادیوںاور برُے لوگوں کے علاوہ کیسے کیسے صلحا ومتقین ہوں گے۔انسان کا سب سے بڑا جرم، انکار رب کے بعد، زمین میں فساد کرنا اور خون بہانا ہے۔کسی فرد یا گروہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایسی کارروائیاں کرے جس کے نتیجے میں زمین پر خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام بگڑ جائے، انسان انسان کی جان مارنے لگے۔ ایسا ہر فعل آدمی کو خدا کی رحمتوں سے محروم کردیتا ہے۔ زمین میں خدا کے بنائے ہوئے فطری نظام کا قائم رہنا اس کی اصلاح ہے اور زمین کے فطری نظام کو بگاڑنا اس کا فساد۔
6 further citations are on recordings that are not available on YouTube at the moment, so they are not shown here. They are still counted above and included in the download.