خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ وَعَلَىٰٓ أَبۡصَٰرِهِمۡ غِشَٰوَةٞۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
Allah has set a seal upon their hearts and upon their hearing, and over their vision is a veil. And for them is a great punishment
If one closes one’s eyes, one will not be able to see. If one blocks one’s ears, one will not be able to hear. However clear the call of truth may be, it can be understood and accepted only if one opens one’s mind to it. God’s inaudible call present in the universe, and the audible expression of that call by the preacher of God’s word, cannot touch those who have closed minds. The call of truth in its pure, unadulterated form is founded on reality; it is in accord with nature. When it is made, none can fail to recognize it. If one hears it with an open mind, one will know in one’s heart that it is nothing else but truth. However, where society is rigidly bound by age-old conventions, people are less concerned with opening their minds to divine realities than they are with supporting the vested interests of the existing system. As God’s emissary, the preacher is neither a representative nor a supporter of the conventional structures of society. His call, being new and unfamiliar, poses itself as a threat to material security. Much as people are urged by him to submit to the will of God, they baulk at doing so, because it would mean demolishing the world they have made for themselves. It is difficult also for him to convey his message to highly placed individuals who are afraid that, if they follow an ‘insignificant’ person, they will thereby suffer some diminution of their own personal glory. The two greatest obstacles then to the success of the preacher are people’s worldliness and arrogance. It is these mental states, which prevent people from accepting the truth; the Quran has called them ‘seals’ over people’s hearts. The minds of those who do not consider the call of truth seriously, who are proud and worldly in their attitude, are covered with an invisible veil which makes them impervious to the truth. When one is prejudiced against something, one cannot see its rationality, even if there are clear signs in support of it.
ایک شخص اپنی آنکھ کو بند کرلے تو آنکھ رکھتے ہوئے بھی وہ سورج کو نہ دیکھے گا۔ کوئی شخص اپنے کان میں روئی ڈال لے توکان رکھتے ہوئے بھی وہ باہر کی آواز کو نہیںسنے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ حق کا بھی ہے۔ حق کا اعلان خواہ کتنا ہی واضح صورت میں ہورہا ہو مگر کسی کے لیے وہ قابلِ فہم یا قابلِ قبول اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ اس کے لیے اپنے دل کے دروازے کھلا رکھے۔ جو شخص اپنے دل کے دروازے بند کرلے، اس کے لیے کائنات میں خدا کی خاموش پکار اور داعی کی زبان سے اس کا لفظی اعلان دونوں بے سود ثابت ہوں گے۔
حق کی دعوت جب اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو وہ اتنی زیادہ مبنی بر حقیقت اور اتنی زیادہ مطابقِ فطرت ہوتی ہے کہ کوئی شخص اس کی نوعیت کو سمجھنے سے عاجز نہیں رہ سکتا۔ جو شخص بھی کھلے ذہن سے اس کو دیکھے گا اس کا دل گواہی دے گا کہ یہ عین حق ہے۔ مگر اُس وقت عملی صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف وقت کا ڈھانچہ ہوتا ہے جو صدیوں کے عمل سے ایک خاص صورت میں قائم ہوجاتا ہے۔ اس ڈھانچہ کے تحت کچھ مذہبی یا غیر مذہبی گدیاں بن جاتی ہیں جن پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ عزت و شہرت کی صورتیں رائج ہوجاتی ہیں جن کے جھنڈے اٹھا کر کچھ لو گ وقت کے اکابر کا مقام حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ کاروبار اور مفادات قائم ہوجاتے ہیں جن کے ساتھ اپنے کو وابستہ کرکے بہت سے لوگ اطمینان کی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں۔
ان حالات میں جب ایک غیر معروف کونے سے اللہ اپنے ایک بندے کو کھڑا کرتا ہے اور اس کی زبان سے اپنی مرضی کا اعلان کراتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کو اپنی بنی بنائی دنیا بھنگ ہوتی نظر آتی ہے۔ حق کے پیغام کی تمام تر صداقت کے باوجود دو چیزیں ان کے لیے اس کو صحیح طورپر سمجھنے میںرکاوٹ بن جاتی ہیں— کبر اوردنیا پرستی۔ جو لوگ مروجہ ڈھانچہ میں بڑائی کے مقامات پر بیٹھے ہوئے ہوں، ان کو ایک ’’چھوٹے آدمی‘‘ کی بات ماننے میںاپنی عزت خطرہ میں پڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ احساس ان کے اندر گھمنڈ کی نفسیات کو جگادیتا ہے۔ داعی کو وہ اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اس کی دعوت کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اسی طرح دنیوی مفادات کا سوال بھی قبولِ حق میںرکاوٹ بن جاتا ہے۔ کیوں کہ حق کا داعی مروجہ سماجي روايت کا نمائندہ نہیںہوتا۔ وہ ایک نئی اور غیر مانوس آواز کو لے کر اٹھتا ہے، اس لیے اس کو ماننے کی صورت میں لوگوں کو اپنے مفادات کا ڈھانچہ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔
یہی وہ کنڈیشننگ کی حالت ہے جس کو قرآن میں مہر لگانے سے تعبیر کیا گیاہے۔ جو لوگ دعوت حق کے معاملہ کو سنجیدہ معاملہ نہ سمجھیں ، جو گھمنڈ اور دنیا پرستی کی نفسیات میں مبتلا ہوں ، ان کے ذہن کے اوپر ایسے غیر محسوس پردے پڑ جاتے ہیں جو حق بات کو ان کے ذہن میں داخل نہیں ہونے دیتے۔ کسی چیز کے بارے میں آدمی کے اندر مخالفانہ نفسیات جاگ اٹھیں تو اس کے بعد وہ اس کی معقولیت کو سمجھ نہیں پاتا۔ خواہ اس کے حق میں کتنے ہی واضح دلائل پیش کیے جارہے ہوں ۔