فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۗ وَلَا تَعۡجَلۡ بِٱلۡقُرۡءَانِ مِن قَبۡلِ أَن يُقۡضَىٰٓ إِلَيۡكَ وَحۡيُهُۥۖ وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا
So high [above all] is Allah, the Sovereign, the Truth. And, [O Muhammad], do not hasten with [recitation of] the Qur'an before its revelation is completed to you, and say, "My Lord, increase me in knowledge
A dayee should have two major aims: to bring about a psychological revolution in his addressees so that they may become God-fearing or at least he should be able to raise questions in his hearers about his call. During the Dawah campaign in Makkah, the addressees were raising all sorts of questions, creating problems for the Prophet. The Prophet naturally wanted that the intervals between the revelations could be reduced, so that he could receive God’s guidance more frequently. This would have enabled him to deal more promptly and effectively with the questions and problems which arose daily during his dawah work in Makkah. He was told that the process of revelation was in accordance with a divine, pre-ordained plan. It would continue as the occasion warranted, and would reach its completion in due course. He was asked not to desire the revelation of future parts of the Quran before their divinely appointed time. However, he was advised to pray to God to increase his understanding of the vast wisdom enshrined in the verses of the Quran. Instead of wishing for an early revelation of Quranic verses, he was expected to have the desire to understand the reason for their being revealed gradually, on a pre-planned scale of priority.
خدا نے اپنی کتاب جس میں ہر قسم کے دلائل ہیں، انسانی زبان میں اتاری ہے۔ اور اس زبان کو ہمیشہ کے لیے ایک زندہ زبان بنا دیا ہے۔ اس طرح خدا کی ہدایت کو ایک ایسی چیز بنا دیا گیا ہے جس کو ہر زمانہ کا آدمی پڑھ اور سمجھ سکے۔
داعی جب حق کی دعوت لے کر اٹھے تو اس کے سامنے نتیجہ کے اعتبار سے دو چیزیں ہونی چاہئیں۔ پہلی مطلوب چیز تو یہ ہے کہ سننے والے کے اندر نفسیاتی انقلاب پیدا ہو اور وہ اللہ سے ڈرنے والا بن جائے۔ دوسری اس سے کمتر بات يه ہے کہ داعی کی بات سننے والے کے ذہن میں سوال بن کر داخل ہوجائے۔
مکہ میں دعوتی مہم کے دوران روزانہ لوگوں کی طرف سے سوالات اٹھائے جاتے تھے اور نئے نئے مسائل پیدا ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش فطری طور پر یہ ہوتی تھی کہ قرآن کا وقفۂ نزول کم ہو،تا کہ آپ کو جلد جلد خدائی رہنمائی ملتی رہے۔ فرمایا کہ قرآن جس تدریج سے اتر رہا ہے وہ خدا کا طے شدہ منصوبہ ہے۔ وہ اسی طرح اترے گا اور بہر حال اپنی تکمیل تک پہنچے گا۔ تم مستقبل کے قرآن کو حال میں اتارنے کے خواہش مندنہ بنو۔ البتہ یہ دعا کرو کہ خدا تمھارے فہم قرآن میں اضافہ کرے۔ قرآن کی آیتوں میں جو وسیع مضامین چھپے ہوئے ہیں ان کا ادراک کرنے کی صلاحیت پیدا کردے۔ قرآن کی اگلی آیتوں کے بارے میں تعمیل کے بجائے تمھیں اس حکمت کو جاننے کا خواہش مند ہونا چاہیے کہ قرآن کے نزول میں ترتیب وتدریج کیوں رکھی گئی ہے۔
اس سے یہ نکلتاہے کہ داعی کو کبھی جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہيے۔ دعوت کے حالات میں جہاد کے مسائل بیان کرنا۔ اصلاحِ افراد کے دور میں اجتماعی اقدام کے احکام سنانا۔ جن مواقع پر صبرمطلوب ہے ان مواقع پر قتال کی آیتوں کے حوالے دینا، یہ سب اسی کے ذیل میں داخل ہے۔ اور اس سے پرہیز کرنا داعی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔