قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
Said Pharaoh, "And what is the Lord of the worlds
‘What is this: Lord of the Worlds?’ This utterance of Pharaoh was meant to convey ridicule rather than ask a question. But Moses, without being irritated, replied to him in a normal manner. Again Pharaoh sought to show his disapproval of Moses by asking his courtiers, ‘Did you hear?’ Moses ignored this also and continued with what he had to say.
تمھارا رب العالمین کیا ہے— فرعون کا یہ جملہ دراصل استہزاء تھا، نہ کہ سوال۔ مگر حضرت موسیٰ نے کسی جھنجھلاہٹ کے بغیر بالکل معتدل انداز میں اس کا جواب دیا۔ فرعون نے دوبارہ اپنے درباریوں سے یہ کہہ کر حضرت موسیٰ کی تحقیر کی کہ ’’سنتے ہو، یہ کیا کہہ رہے ہیں‘‘۔ حضرت موسیٰ نے اس کوبھی نظر انداز کیا اور اپنا سلسلہ کلام بدستور جاری رکھا۔ فرعون نے مشتعل ہو کر حضرت موسیٰ کو دیوانہ قرار دیا۔ مگر اب بھی حضرت موسیٰ نے اپنے اعتدال کو نہیں کھویا۔ فرعون نے قید کی دھمکی دی تو حضرت موسیٰ نے اپنی آخری دلیل (معجزہ) کو اس کے سامنے رکھ دیا۔ اب فرعون کے ليے مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہ تھی۔ مگر اس نے ہار نہ مانی۔ اس نے حضرت موسیٰ کی اہمیت گھٹانے کے ليے کہا کہ یہ کوئی خدائی واقعہ نہیں۔ یہ تو محض ایک ساحرانہ واقعہ ہے۔ اور ہر جادو گر ایسا کرشمہ دکھا سکتا ہے۔
حضرت موسیٰ کی دعوت سراسر پر امن دعوت تھی۔ اس کا سیاست اور حکومت سے بھی براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ مگر فرعون نے اپنی قوم کو آپ کے خلاف بھڑکانے کے ليے یہ کہہ دیا کہ وہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ فرعون کی غیر سنجیدگی اسی سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ نے تو خود اپنی قوم کو ساتھ لے کر مصر سے باہر جانے کی بات کی تھی۔ مگر فرعون نے اس کو الٹ کر یہ کہہ دیا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →