وَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
And let there be [arising] from you a nation inviting to [all that is] good, enjoining what is right and forbidding what is wrong, and those will be the successful
This command pertains, on the one hand, to the common man and on the other to the intellectuals and the educated class. The educated should be strenuous in their efforts to enjoin goodness and forbid wrong in the community. Their keen awareness of the need for reform should ensure their continuing concern with the state of the people: they must encourage everyone to follow the path of goodness and shun the path of evil. However, for such an effort to succeed, the public must be submissive; they must be willing to listen to their elders. They must show respect for them, follow them as they are bid and stop where they are told to stop, thus surrendering themselves to their religious reformers. A Muslim community’s success thus depends respectively upon the attitudes of the religious elders and of the public. It is in an atmosphere of listening and obeying that society can be reformed, ensuring success both in this world as well as in the next. In short, elders motivated by the true religious spirit, should never shirk their responsibility towards their community of enjoining goodness upon them and forbidding evil.
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر برائی کو برداشت نہ کریں، وہ نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والے ہوں۔ ان کا یہ جذبۂ اصلاح انھیں مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کہ احوال سے غیر متعلق نہ رہیں، وہ اپنے بھائیوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے اکسائیں اور انھیں برائی سے دور رہنے کی تلقین کریں۔
تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے امت کے عوام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہونا بھی لازماً ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے خواص کا احترام کریں۔ وہ ان کے کہنے سے چلیں اور جہاں وہ روکیں وہاں وہ رک جائیں۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دینی ذمہ داروں کے حوالے کردیں۔ جس مسلم گروہ میں خواص اور عوام کا یہ حال ہو وہی فلاح پانے والا گروہ ہے۔ سمع وطاعت کی اس فضا ہی میں کسی معاشرہ کے اندر وہ اوصاف جنم لیتے ہیں جو اس کو دنیا میںطاقت ور اور آخرت میںنجات یافتہ بناتے ہیں۔
خواص کے اندر اس روح کے زندہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ ان کی ساری توجہ خیر، بالفاظ دیگر اساسات دین پر مرتکز رہتی ہے۔ فرعی اور جزئی مسائل میں موشگافیاں کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ جو لوگ خدا کی عظمتوں کے نقیب بنیں اور آخرت کے منذراور مبشربن کر اٹھیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ظاہری مسائل کی جزئیات میں اپنی مہارت دکھائیں۔ اس کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انھیں حقیقی مسائل کی اصلاح میں لگا دیتا ہے۔ فرضی اور قیاسی مسائل میں ذہنی ورزش کرنا انھیں اسی طرح بے معنی اور بے فائدہ معلوم ہونے لگتا ہے جس طرح ایک کسان کو شطرنج کا کھیل۔
عوام کو اس نظام اطاعت پر اپنے کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
3 further citations are on recordings that are not available on YouTube at the moment, so they are not shown here. They are still counted above and included in the download.