إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗاۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
Indeed, those who disbelieve - never will their wealth or their children avail them against Allah at all, and those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally
The love of wealth and children becomes an obstacle to accepting a religion, which entails all kinds of sacrifices. And adherence to God’s religion is not a matter of engaging in hollow pretences of piety carried out in the public eye. Just as a gust of chill air ravages the whole harvest, so will the tempest of the Last Day (qiyamah) render valueless all such ostentatious acts. There were some among the Jews who believed in the Prophet Muhammad. And a few God-fearing people are more precious in the eyes of God than a host of ungodly people. But merely being a member of a community formed of one race in the name of a prophet, is not enough to earn one salvation. What is actually required of an individual is that he binds himself by a covenant with God. By ‘covenant’ is meant faith—the sacred bond between God and man. That is to say, personal actions and not community relationship make one deserving of God’s mercy and blessings. All the responsibilities that faith implies are included in this pledge. Remembering God in one’s solitude, worshipping Him, leading one’s life keeping in view the Hereafter, enjoining goodness upon the people around one, discouraging people from committing evil, working unstintingly for the cause of God—all such actions fulfill the divine covenant. Those who follow such a course are upright people in the eyes of God. God has full knowledge of their actions, for which He will reward them, and He will greatly honour them on the Day of Judgement.
نیکیوں میں سبقت (مسارعة فی الخیرات) سے مراد اس آیت میں مومنین اہلِ کتاب کا یہ عمل ہے کہ نبی آخر الزماں کی زبان سے جب خدائی سچائی کا اعلان ہوا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا اور اس کی طرف عاجزانہ دوڑ پڑے۔ اس وقت ایک طرف دین موسیٰ تھا جو تاریخی عظمت اور روایتی تقدس کے زور پر قائم تھا۔ دوسری طرف دین محمد تھا جس کی پشت پر ابھی تک صرف دلیل کی طاقت تھی، تاریخی عظمت اور روایاتی تقدس کا وزن ابھی تک اس کے ساتھ شامل نہیں ہوا تھا۔ اپنے دین اور وقت کے نبی کے دین میں یہ فرق وقت کے نبی کے دین کو ماننے میں زبردست رکاوٹ تھا۔ مگر وہ اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے اور بڑھ کر وقت کے نبی کے دین کو مان لیا۔
مال واولاد کی محبت آدمی کو قربانی والے دین پر آنے نہیں دیتی۔ البتہ نمائشی قسم کے اعمال کا مظاہرہ کرکے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہے۔ مگر جس طرح سخت ٹھنڈی ہوا اچانک پوری کھیتی کو برباد کردیتی ہے، اسی طرح قیامت کا طوفان ان کے نمائشی اعمال کو بے قیمت کرکے رکھ دے گا — یہود میں صرف چند لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ ’’امت قائمہ‘‘ کی حیثیت سے ان کا مستقل ذکر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چند آدمی اگر اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ بھیڑ کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
نجات کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کسی پیغمبر کے نام پر جو نسلی امت بن گئی ہے، آدمی اس امت میں شامل رہے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ عہد کا پابند بنے۔ عہد سے مراد ایمان ہے۔ ایمان بندے اور خدا کے درمیان ایک عہد ہے۔ ایمان لاکر بندہ اپنے آپ کو اس کا پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کا وفادار اور اطاعت گزار بنائے گا۔ بالفاظ دیگر، گروہی نسبت نہیں بلکہ ذاتی عمل وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو خدا کی رحمت اور بخشش کا مستحق بناتی ہے۔
اس عہد میں تمام ایمانی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ تنہائیوں میں اللہ کی یاد، اللہ کی عبادت گزاری، آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، اپنے آس پاس جو افراد ہوں ان کو بھلائی پر لانے کی کوشش کرنا، جو افراد برائی کا ارتکاب کریں ان کو برائی سے ہٹانے میں پورا زور لگا دینا، خدا کی پسند کے کاموں میں دوڑ کر حصہ لینا۔ جو لوگ ایسا کریں وہی عہد ربانی پر پورے اترے۔ وہ خدا کے مقبول بندے ہیں۔ ان کا عمل خدا کے علم میں ہے، وہ ان کو ان کے عمل کا بدلہ دے گا اور فیصلہ کے دن ان کی پوری قدردانی فرمائے گا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →