مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمۡ عَلَيۡهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَجۡتَبِي مِن رُّسُلِهِۦ مَن يَشَآءُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمۡ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
Allah would not leave the believers in that [state] you are in [presently] until He separates the evil from the good. Nor would Allah reveal to you the unseen. But [instead], Allah chooses of His messengers whom He wills, so believe in Allah and His messengers. And if you believe and fear Him, then for you is a great reward
Having faith implies not being obsessed with one’s own self. Such an obsession amounts to assigning the position of greatness to one’s own self rather than to God. A believer should not be engrossed in the world, as this would mean that he did not attach real importance to the Hereafter. A believer should eschew arrogance, miserliness, injustice, and even love for and deep attachment to anything other than God. He should instead adopt the ways of God-worship, humility, generosity and justice. This would show that he is sincere in his faith and that he has actually dedicated himself to God and the Hereafter. Failure to do so means that he is not sincere in his faith. In spite of a formal acceptance of faith, he would in fact be living in this world very much like the non-believers. The division into good and bad souls in the Hereafter will be based on reality rather than on ostentatious behaviour. We find that wicked people too have been given full freedom. But it is only so that they can reveal their entirely perverse nature (what lies within them). Yet, however hard they may try, they can never succeed in vanquishing the believers. They have the power to use their freedom only where they themselves are concerned, not against others.
زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے۔ اصل مسئلہ وہ ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہے۔ لوگ دنیا کے جہنم سے بچنے کی فکر کرتے ہیں اوراپنی ساری توجہ دنیا کی جنت کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ مگر زیادہ عقل مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کے جہنم سے اپنے کو بچائے اور وہاں کی جنت کی طرف دوڑے۔ دنیا میں پیسہ والا ہونا اور بے پیسہ والا ہونا، جائداد والا ہونا اور بے جائداد والا ہونا، عزت والا ہونا اور بے عزت والا ہونا، یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہرآدمی کو آنکھوں سے نظر آتی ہیں۔ اس لیے وہ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ اپنی ساری کوشش اس مقصد کے لیے لگا دیتا ہے کہ وہ یہاں محروم نہ رہے۔ مگر انسان کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے جس کو اللہ نے امتحان کی مصلحت سے چھپا دیا ہے اور اس سے لوگوں کو خبر دار کرنے کے لیے یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ اپنے کچھ بندوں کو غیب کی پیغام بری کے لیے چنے۔ ان کو موت کے اس پار کی حقیقتوں سے خبردار کرے اور پھر ان کو مقرر کرے کہ وہ دوسروں کو اس سے باخبر کردیں۔ انسان کی اصل جانچ یہ ہے کہ وہ خدا کے داعی کی آواز میں سچائی کی جھلکیوںکو پالے، وہ ایک لفظی پکار میں حقیقت کی عملی تصویر دیکھ لے۔ وہ اپنے جیسے ایک انسان کی باتوں میں خدائی بات کی گونج سن لے۔
ایمان یہ ہے کہ آدمی خود پسندی نہ کرے۔ کیوںکہ خود پسندی خدا کے بجائے اپنے آپ کو بڑائی کا مقام دینا ہے۔ وہ دنیا میں غرق نہ ہو۔ کیوں کہ دنیا میں غرق ہونا ظاہر کرتا ہے کہ آدمی آخرت کو اصل اہمیت نہیں دیتا۔ وہ کبر، بخل، ناانصافی اور غیر اللہ کی عقیدت ومحبت سے اپنے کو بچائے اور اس کے بجائے خداپرستی، تواضع، فیاضی اور انصاف پسندی کو اپنا شیوہ بنائے۔ ایسا کرنا ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے ایمان میں سنجیدہ ہے۔ اس نے فی الواقع اپنے آپ کو خدا اور آخرت کی طرف لگادیا ہے۔ اور ایسا نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں سنجیدہ نہیں۔ اقرارِ ایمان کے باوجود عملاً وہ اسی دنیا میں جی رہا ہے جہاں دوسرے لوگ جی رہے ہیں۔ آخرت میں خبیث روحوں اور طیب روحوں کی جو تقسیم ہوگی وہ حقیقت کے اعتبار سے ہوگی، نہ کہ محض ظاہری نمائش کے اعتبار سے — دنیا میں برے لوگوں کو جوڈھیل دی گئی ہے وہ صر ف اس لیے ہے کہ وہ اپنے اندر کی بُرائی کو پوری طرح ظاہر کردیں۔ مگر وہ خواہ کتنی ہی کوشش کریں وہ اہلِ حق کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی آزادی کو صرف اپنے خلاف استعمال کرسکتے ہیں، نہ کہ دوسروں کے خلاف۔