۞لَتُبۡلَوُنَّ فِيٓ أَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَذٗى كَثِيرٗاۚ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ
You will surely be tested in your possessions and in yourselves. And you will surely hear from those who were given the Scripture before you and from those who associate others with Allah much abuse. But if you are patient and fear Allah - indeed, that is of the matters [worthy] of determination
A man has to make the journey of faith in a world where he might be hurt in many ways, both by his own people as well as strangers. But under no circumstances should he fall prey to negative thoughts. He should rather confront every difficult situation as it comes and keep going on. He might be even provoked, but nonetheless he should restrain himself. He should bear every setback without resorting to vengeance. There might be many an occasion when his heart, unable to take any more suffering might tell him to break the bonds of God and act as his heart bids him. Still, the fear of God should stop him from taking such a step even then. The demands of religion inevitably require the ultimate sacrifice—which would mean sacrificing one’s life and wealth. In such a situation, one has to uphold religion by making sacrifices for its cause, though that might mean adopting the most difficult of the courses open to one. On the journey of faith, this is a tremendous test of courage and high-mindedness. Indeed, becoming a true believer is a trial which requires patience and piety. One who successfully qualifies in this test is the believer for whom the gates of Paradise will be thrown open in the Hereafter.
ایمان کا سفر آدمی کو ایسی دنیا میںطے کرنا ہوتا ہے جہاں اپنوں اور غیروں کی طرف سے طرح طرح کے زخم لگتے ہیں۔ مگر مومن کے لیے ضروری ہوتاہے کہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو، وہ ہر صورت حال کا مثبت جواب دیتے ہوئے آگے بڑھتا رہے۔ لوگوں کی طرف سے اشتعال دلانے والے مواقع پیش آتے ہیں مگر وہ پابند ہوتا ہے کہ ہر قسم کے جھٹکوں کو اپنے اوپر سہے اور جوابی ذہن کے تحت کوئی کارروائی نہ کرے۔ بار بار ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جب کہ دل کہتا ہے کہ حدود خداوندی کو توڑ کر اپنا مدعا حاصل كيا جائے مگر اللہ کا ڈر اس کے قدموں کو روک دیتا ہے۔اسی طرح دین کی مختلف ضرورتیں سامنے آتی ہیں اور جان ومال کی قربانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسے مواقع پر آسان دین کو چھوڑ کر مشکل دین کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ایمان کے سفر کو ہمت اور عالی حوصلگی کا زبردست امتحان بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن بننا اپنے آپ کو صبر اور تقویٰ کے امتحان میںکھڑا کرنا ہے۔ جواس امتحان میں پورا اترا وہی وہ مومن بنا جس کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خدا ورسول کا نام لینا چھوڑ دے یا خدا کی کتاب سے اپنی بےتعلقی کا اعلان کردے۔ دین ایسے گروہ کی نسلی روایات میں شامل ہوجاتا ہے۔ وہ اس کا پُر فخر قومی اثاثہ بن جاتا ہے۔اور جس چیز سے اس طرح کا نسلی اور قومی تعلق قائم ہوجائے اس سے علیحدگی کسی گروہ کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم اس کا یہ تعلق محض رسمی تعلق ہوتا ہے، نہ کہ فی الواقع حقیقی تعلق۔ وہ اپنی دنیوی سرگرمیاں بھی دین کے نام پر جاری کرتے ہیں۔ وہ بے دین ہو کر بھی اپنےکو دین دار کہلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ان کو اس کام کا کریڈٹ دیا جائے جس کو انھوں نے کیا نہیں۔ وہ نجاتِ اُخروی سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور اسی کے ساتھ ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جس کے مطابق ان کو اپنی نجات بالکل محفوظ نظر آتی ہے۔ وہ اپنے گھڑے ہوئے دین پر چلتے ہیں مگر اپنے کو دین خداوندی کا عَلَم بردار بتاتے ہیں۔ وہ دنیوی مقاصد کے لیے سرگرم ہوتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو آخرت کا عنوان دیتے ہیں۔ وہ خود ساختہ سیاست چلاتے ہیں اور اس کو خدائی سیاست ثابت کرتے ہیں۔ وہ قومی مفادات کے لیے اٹھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ خیر الامم کا کردار ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر کوئی شخص بے دینی کو دین کہنے لگے تو اس بنا پر وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا ،آدمی دنیا کی طرف دوڑے اور آخرت سے بے پروا ہو جائے تو یہ صرف گمراہی ہے اور اگر وہ اپنے دنیوی کاروبار کو خدا وررسول کے نام پر کرنے لگے تو یہ گمراہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ یہ ایسے کام پر انعام چاہنا ہے جس کو آدمی نے انجام ہی نہیں دیا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →