رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدۡخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدۡ أَخۡزَيۡتَهُۥۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ
Our Lord, indeed whoever You admit to the Fire - You have disgraced him, and for the wrongdoers there are no helpers
The universe with its whole existence is a silent declaration of God’s presence. When man removes the man-made veils from his eyes and unstops his ears, he starts seeing and hearing this silent announcement all around him. It then appears improbable to him that, in a universe where the stars and the planets have continued to exist for millions of years, man may cease to exist within fifty or a hundred years, taking with him to his grave all his desires and aspirations. In a world which abounds in the beauties of nature, with the fragrance of flowers, where countless meaningful blessings, like air, water and the sun have been provided, should man’s end be nothing but only sorrow and suffering? Then he also finds it unthinkable that, in a world of limitless possibilities where, just by sowing seeds in the ground, a whole forest of trees comes into existence, one should fail to receive the fruits of virtuous actions; that in a world where the sun shines daily after the dark night, centuries go by without being illuminated by the lustre of fairness and justice; that in a world where earthquakes and tempests lie dormant, man should continue to perpetrate tyranny and oppression without ever being checked.
کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک خاموش اعلان ہے۔ آدمی جب اپنے کان اور آنکھ سے مصنوعی پردوں کو ہٹاتا ہے تو وہ اس خاموش اعلان کو ہر طرف سننے اور دیکھنے لگتا ہے۔ اس کو ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی کائنات جس کے ستارے اور سیارے کھربوں سال تک بھی ختم نہیں ہوتے وہاں انسان اپنی تمام خواہشوں اور تمناؤں کو لیے ہوئے صرف پچاس سال اور سو سال میں ختم ہوجائے۔ ایک ایسی دنیا جہاں درختوں کا حسن اور پھولوں کی لطافت ہے۔ جہاں ہوا اور پانی اور سورج جیسی بے شمار بامعنی چیزوں کا اہتمام کیاگیا ہے وہاںانسان کے لیے حزن اور غم کے سوا کوئی انجام نہ ہو۔ پھر یہ بھی اس کو ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی دنیا جہاں یہ اتھاہ امکان رکھا گیا ہے کہ یہاں ایک چھوٹا سا بیج زمین میںڈالا جائے تو اس کے اندر سے ہرے بھرے درخت کی ایک پوری کائنات نکل آئے وہاں آدمی نیکی کی زندگی اختیار کرکے بھی اس کا کوئی پھل نہ پاتا ہو۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر روز تاریک رات کے بعد روشن دن آتا ہے وہاں صدیاں گزر جائیں اور عدل وانصاف کا اجالا اپنی چمک نہ دکھائے۔ ایک ایسی دنیا جس کی گود میں زلزلے اور طوفان سورہے ہیں۔ وہاں انسان ظلم پر ظلم کر تا رہے مگر کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا سامنے نہ آئے۔ جو لوگ حقیقتوں میں جیتے ہیں اور گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں ان کے لیے ناقابلِ یقین ہوجاتا ہے کہ ایک بامعنی کائنات بے معنی انجام پر ختم ہوجائے۔ وہ جان لیتے ہیں کہ حق کا داعی جو پیغام دے رہا ہے وہ نطق کی زبان میں اسی بات کا اعلان ہے، جو خاموش زبان میں ساری کائنات میں نشر ہورہا ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ جب سچائی کھلے اور جب انصاف کا سورج نکلے تو اس دن وہ ناکام و نامراد نہ ہوجائیں، وہ اپنے رب کو پکارتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، وہ مفاد اور مصلحت کی تمام حدود کو توڑ کر داعی حق کے ساتھ ہوجاتے ہیں۔ تاکہ جب کائنات کا ’’اجالا‘‘ اور کائنات کا ’’اندھیرا‘‘ ایک دوسرے سے الگ کيے جائیں تو کائنات کا مالک ان کو اجالے میں جگہ دے، وہ ان کو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے کے لیے نہ چھوڑے۔
عقل اور بے عقلی کا حقیقی پیمانہ اس سے بالکل مختلف ہے جو انسانوں نے بطور خود بنا رکھا ہے۔ یہاں عقل والا وہ ہے جو اللہ کی یاد میں جئے، جو کائنات کے تخلیقی منصوبہ میںکام کرنے والی خدائی معنویت کو پالے۔ اس کے برعکس، بے عقل وہ ہے جو اپنے دل ودماغ کو دوسری دوسری چیزوں میں اٹکائے، جو دنیا میں اس طرح زندگی گزارے جیسے کہ ا س کو مالک کائنات کے تخلیقی منصوبہ کی خبر ہی نہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →