ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُ
Allah - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Sustainer of existence
The Creator and Sustainer of the universe is not a mechanical God. He is, in fact, a live and conscious Being. He has sent guidance for man throughout the ages, including the Torah and the Bible, which were revealed to the former prophets. But man has always put different constructions upon divine teachings. Thus, through his self-styled interpretations, he has divided one religion into many. Ultimately, in accordance with God’s plan, the final book in the form of the Quran was sent down to man. The Quran is not only a genuine book of guidance but also serves as the criterion or standard of right and wrong. It tells us which is the true religion and which is the religion devised by human beings through misinterpretation. Now those who, denying the book of the Almighty, refuse to abandon the religion devised by human beings, are deserving of His punishment. These are the people to whom God granted eyes, but who failed to see the light (sent by God in the form of this book). These are the people to whom their Creator granted minds, but who failed to understand the truth when it came to them in the form of arguments. Bowing to the truth required them to bow to the Prophet and to God, and they thought that by surrendering to the Supreme Being and His Prophet they would diminish in stature. To save their petty ‘greatness’, they refused to bow to the Truth.
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل وتشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لیے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعے بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا اپنی چھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے كو تیار نہ ہوئے۔
اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبارسے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کرسکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طورپر بتاسکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے گا۔ یہی معاملہ انسان کے لیے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ وہی ہوسکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کرسکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →