قُلِ ٱللَّهُمَّ مَٰلِكَ ٱلۡمُلۡكِ تُؤۡتِي ٱلۡمُلۡكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلۡمُلۡكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُۖ بِيَدِكَ ٱلۡخَيۡرُۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
Say, "O Allah, Owner of Sovereignty, You give sovereignty to whom You will and You take sovereignty away from whom You will. You honor whom You will and You humble whom You will. In Your hand is [all] good. Indeed, You are over all things competent
All kinds of honour and power lie in the hand of God. Those who are considered insignificant by the leaders of the time can be entitled to the highest honour and eminence by the grace of God. In the eyes of God, it is those who regard such attainments as being purely and simply the gifts of God who are deserving of honour and power. The most undeserving of honour and power are those who consider them to be their own acquisitions. In the vaster universe, God daily performs the miracle, on a colossal scale, of bringing darkness after light and light after darkness (i.e. the alternation of day and night). He brings into existence life from dead elements and causes living things to die. There is nothing surprising about it if this same power of God manifests itself among human beings. But those who exchange falsehoods in the name of truth always turn against the call of truth. The preacher of truth may ultimately be rendered homeless and his economic resources may be cut off. But such an individual is always under the direct guardianship of God, who provides for him His special succour. While others are provided for according to their efforts, a messenger of truth is provided for by God ‘without measure’.
اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لیے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت میں اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی ملاوٹوںسے دین خداوندی کو پاک کررہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لیے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوںنے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کرلیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔
ہر قسم کی عزت وطاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسر بلندی کا فیصلہ کردے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کردے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت وطاقت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے ا ور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا وسیع تر کائنات میں روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اوڑھا دیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں وہ ہمیشہ سچی دعوتِ حق کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کيے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہِ راست اللہ کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسروں کو ان کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو بلا حساب۔
1 further citation is on a recording that is not available on YouTube at the moment, so it is not shown here. It is still counted above and included in the download.