أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗ وَأَثَارُواْ ٱلۡأَرۡضَ وَعَمَرُوهَآ أَكۡثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
Have they not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? They were greater than them in power, and they plowed the earth and built it up more than they have built it up, and their messengers came to them with clear evidences. And Allah would not ever have wronged them, but they were wronging themselves
Constant remembrance (through prayer, etc.) and deep contemplation lead a man towards finding God. It is by profound thought that a man finds God. In the present world, God has scattered His signs everywhere—in the human environment, in the surrounding universe and also in the teachings of the Prophet. Those who give serious consideration to these signs of God will find God. Argument in favour of God is God’s representative on earth. If rightful argument is presented to a man and he ignores it, it is as if he has ignored God Himself. For such people there is nothing before God except eternal deprivation.
ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔
’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔
قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔