إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِزِينَةٍ ٱلۡكَوَاكِبِ
Indeed, We have adorned the nearest heaven with an adornment of stars
‘The lowest heaven’ (as-sama’ ad-dunya) perhaps refers to that part of space which is nearer to man and which can be seen with the naked eye. The creatures such as the jinn attempt to fathom information about the unknown. But in the lowest heaven itself the arrangement is such that any such brazen endeavour is disrupted by occurrences like the shower of meteors.
زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →