خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۚ يَخۡلُقُكُمۡ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ خَلۡقٗا مِّنۢ بَعۡدِ خَلۡقٖ فِي ظُلُمَٰتٖ ثَلَٰثٖۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ
He created you from one soul. Then He made from it its mate, and He produced for you from the grazing livestock eight mates. He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation, within three darknesses. That is Allah, your Lord; to Him belongs dominion. There is no deity except Him, so how are you averted
God made man and created woman as his mate. In this way, through the first man and woman a generation of human beings came into existence. In addition, God made extensive provision to fulfil the needs of human beings. In the early days of civilization, sheep, goat, camel and cow (a couple from each totalling to eight) catered to economic and social requirements of man. As civilization entered the next stage, man harnessed nature’s potential and used it for his progress.
اولاً ایک انسان وجود میں آیا۔ پھر عین اس کے مطابق اس کا ایک جوڑا نکالا گیا۔ اس طرح ابتدائی مرد وعورت کے ذریعہ انسانی نسل چلی۔ پھر انسان کی ضرورت کےلیے اس سے باہر اللہ تعالیٰ نے بے شمار چیزيں بنائیں۔ بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے (نرومادہ کو ملا کر آٹھ قسمیں) تہذیب کے ابتدائی دور میں ہزاروں سال تک انسان کی معیشت کا ذریعہ بنی رہیں۔ پھر جب تہذیب اگلے مرحلہ میں پہنچی تو دوسری بے شمار چیزوں کو انسان نے استعمال کرنا شروع کیا جن کو خدا نے اول روز سے ایسا بنا رکھا تھا کہ انسان ان کو اپنے کام میں لاسکے۔ جس طرح پالتو جانور طبیعی طورپر انسان کےلیے مسخر ہیں۔ اسی طرح گیسیں اور معدنیات بھی مسخر کی ہوئی ہیں۔ ورنہ انسان ان کو استعمال نہ کرسکے۔ مذکورہ آٹھ قسموں کی مثال بطور علامت ہے، نہ کہ بطور حصر۔
انسان کی پیدائش کے سلسلہ میں یہاں جن تین تاریکيوں کا ذکر ہے اس سے مراد تین پردے ہیں۔ اولاً پیٹ کی دیوار، پھر رحم مادر کا پردہ، اور پھر جنین کی بیرونی جھلّی
The mother’s abdominal wall, the wall of the uterus, and the amniochorionic membrance.
یہ سارا نظام اتنا حیرت ناک حد تک پیچیدہ اور عظیم ہے کہ خالق کائنات کے سوا کوئی اور ان کو ظہور میں نہیں لا سکتا۔ پھر اس کے سوا کون اس قابل ہے کہ اس کو معبود کا درجہ دیا جائے۔
1 further citation is on a recording that is not available on YouTube at the moment, so it is not shown here. It is still counted above and included in the download.