۞لَّا خَيۡرَ فِي كَثِيرٖ مِّن نَّجۡوَىٰهُمۡ إِلَّا مَنۡ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوۡ مَعۡرُوفٍ أَوۡ إِصۡلَٰحِۭ بَيۡنَ ٱلنَّاسِۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا
No good is there in much of their private conversation, except for those who enjoin charity or that which is right or conciliation between people. And whoever does that seeking means to the approval of Allah - then We are going to give him a great reward
The issuing of a genuine call to the truth amounts to the establishment of God’s balance of justice on the earth. Everyone feels that he is being weighed in its scale. Such a call removes the veneer from man and leaves him as he actually is. This state of affairs is so hard upon those who are thus exposed that they become infuriated to an extreme degree. The preacher of God’s word has to bear the brunt of this. People who find themselves valueless in the scales of truth are overcome with feelings of haughtiness and pride. They lose no time in opposing and obstructing any move that casts doubt on their being lovers of the truth. They spread all kinds of rumours against the call and the caller. They dissuade others from extending any financial help to the dayees. They relentlessly try to discourage God’s servants from rallying around the conveyor of the divine message by creating doubts about his message. On the other hand, to those who have kept their consciences alive, God gives the ability to surrender before the preacher of God’s word, to extend their full support to him and mould their lives in accordance with his guidance. For them their God-given faculty of speech is used to openly acknowledge the truth; they urge people to expend their time and wealth on that mission, they encourage people to use their energies in charity and welfare activities and strive to persuade them to extinguish personal enmities and grievances. The acknowledgement of truth awakens a positive psychology within them as a natural result of which they feel disposed to engage in positive activities.
حق کی بے آمیز دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ زمین پر خدا کا ترازو کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ اس کی میزان میںہر آدمی اپنے کو تُلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ حق کی دعوت ہر ایک کے اوپر سے اس کا ظاہری پردہ اتاردیتی ہے اور ہر شخص کو اس کے اس مقام پر کھڑا کردیتی ہے جہاں وہ باعتبار حقیقت تھا۔ یہ صورت حال اتنی سخت ہوتی ہے کہ لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ سارا ماحول داعی کے لیے ایسا بن جاتا ہے جیسے وہ انگاروں کے درمیان کھڑا ہوا ہو۔
جو لوگ دعوت حق کے ترازومیں اپنے کو بے وزن ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں ان کے اندر ضد اور گھمنڈ کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ تیزی سے مخالفانہ رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ایسی دعوت کو مٹا دیں جو ان کی حق پرستانہ حیثیت کو مشتبہ ثابت کرتی ہو۔ ان کے لیے اپنی زبان کا استعمال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ دعوت اور داعی کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلائیں۔ اس کو زیر کرنے کے منصوبے بنائیں۔ وہ لوگوں کو منع کریں کہ اس کی مالي مدد نہ کرو۔ جو اللہ کے بندے اللہ کی رسّی کے گرد متحد ہورہے ہوں ان کو بدگمانیوں میں مبتلا کرکے منتشر کریں۔
اس کے برعکس، جو لوگ اپنی فطرت کو زندہ رکھے ہوئے تھے ان کو اللہ کی مدد سے یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائیں، وہ اس کا ساتھ دیں، وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا شروع کردیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی زبان کا استعمال یہ ہوتا ہے کہ وہ کھلے طور پر سچائی کا اعتراف کرلیں۔ وہ لوگوں سے کہیں کہ یہ اللہ کا کام ہے اس میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرو۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنی قوتوں کو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں لگائیں۔ وہ آپس کی رنجشوں اور شکایتوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ حق کا اعتراف ان کے اندر جو نفسیات جگاتا ہے اس کا قدرتی نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے تعميري کاموں میں لگ جائیں۔
اللہ کے نزدیک یہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے کہ حق کی دعوت کی مخالفت کی جائے اور جو لوگ حق کی دعوت کے گرد جمع ہوئے ہیں ان کو اپنی دشمنی کی آگ میں جلانے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے اکثر گناہوں میں یہ امکان رہتا ہے کہ وہ انسان کی غفلت یا کمزوری کی وجہ سے صادر ہوئے ہوں۔ مگر دعوت حق کی مخالفت تمام تر سرکشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور سرکشی کسی آدمی کا وہ جرم ہے جس کو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا، اِلاّ یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اقرار کرے اور سرکشی سے باز آجائے۔ دین کی دعوت جب بھی اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو وہ ایک خدائی کام ہوتا ہے جو خدا کی خصوصی مدد پر شروع ہوتا ہے۔ ایسے کام کی مخالفت کرنا گویا خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہونا ہے اور کون ہے جو خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر کامیاب ہو۔