إِن يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثٗا وَإِن يَدۡعُونَ إِلَّا شَيۡطَٰنٗا مَّرِيدٗا
They call upon instead of Him none but female [deities], and they [actually] call upon none but a rebellious Satan
Man’s real challenge in this world is from Satan. Though Satan has no real power, he can lure human beings with fanciful promises to fulfil wishful, imaginary desires and thus manage to make them deviate from the straight path of truth. Satan’s way of misguiding is of two main types: one is superstition and the other is interference in God’s creation. Faith in superstition means expectation of such results from something as have no relation with that thing. For instance, on the basis of self-styled suppositions, one may believe that someone other than God is the controller of the affairs of the world, while it is a well-established fact that no one enjoys any power save God. Superstition can also take the form of being fully involved in worldly activities and then, by wishful thinking, hoping to achieve success in the Hereafter without having worked hard for it.
جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔
اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔