لَّيۡسَ بِأَمَانِيِّكُمۡ وَلَآ أَمَانِيِّ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِۗ مَن يَعۡمَلۡ سُوٓءٗا يُجۡزَ بِهِۦ وَلَا يَجِدۡ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا
Paradise is not [obtained] by your wishful thinking nor by that of the People of the Scripture. Whoever does a wrong will be recompensed for it, and he will not find besides Allah a protector or a helper
When the People of the Book, that is, believers in God and the Hereafter, become engrossed in the world, they do not do so by refusing to believe in God and the existence of the Hereafter. What they do is believe in these realities in the formal sense while, in practice, devoting all their efforts to worldly acquisition. They are very serious about the attainment of worldly honour and glory. They know that to achieve success in this world one must struggle. But for the attainment of Paradise, wishful thinking alone is believed to suffice. For instance, through the blessing of some saint, association with a certain group, recitation of some words and phrases, in short, by such cheap formulae or superficial actions, it is hoped that they will be saved from the raging fire of Hell and be ushered into Heaven. Such wishful thinking, in whatever beautiful words it may have been couched, is not going to come to their rescue. God’s system is established on such firm grounds that all divine verdicts are based on realities and not on wishful thinking. In God’s court everyone will be judged exactly in accordance with his actions. There will be nothing other than the law of justice promulgated by God Himself to influence His decisions.
خدا اور آخرت کو ماننے والے لوگ جب دنیا پرستی میں غرق ہوتے ہیں تو وہ خدا اور آخرت کا انکار کرکے ایسا نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ آخرت کے معاملہ کو رسمی عقیدہ کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں اور عملاً اپنی تمام محنتیں اور سرگرمیاں دنیا کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ دنیا کی عزت اور دنیا کے فائدہ کو سمیٹنے کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ان کو پانے کے لیے ان کے نزدیک مکمل جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ مگر آخرت کی کامیابی کو پانے کے لیے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگتی ہیں۔ کسی بزرگ کی سفارش، کسی بڑے گروہ سے وابستگی، کچھ پاک کلمات کا ورد، بس اس قسم کے سستے اعمال سے یہ امید قائم کرلی جاتی ہے کہ وہ آدمی کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائیں گے اور اس کو جنت کے پُربہار باغوں میں داخل کریں گے۔ مگر اس قسم کی خوش خیالیاں خواہ ان کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو، وہ کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں۔ اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے۔ اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہوگا ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ اللہ کے قانونِ عدل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو اللہ کے یہاں فیصلہ کی بنیاد بننے والی ہو۔
اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔ اس کی ایک تاریخی مثال ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ یہ وہ بندے ہیں جو دنیا میں اللہ کے مومن بن کررہیں۔ جو اپنے آپ کو ہمہ تن اپنے رب کی طرف یکسو کرلیں۔ جو اپنی وفاداریاں پوری طرح اللہ کے لیے خاص کردیں۔ انھوںنے دنیا میں اپنے معاملات کو اس طرح قائم کیا ہو کہ وہ ظلم اور سرکشی سے دور رہنے والے اور عدل اور تواضع کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہوں۔ چہرہ آدمی کے پورے وجود کا نمائندہ ہے۔ چہرہ خدا کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کو خدا کی طرف پھیر دے۔
اللہ تمام کائنا ت کا مالک ہے۔ اس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ نے اپنے کو غیب کے پردہ میں چھپا دیا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی خدا کو نہیں دیکھتا، وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ اگرآدمی یہ جان لے کہ انسان کے اختیار میں کچھ نہیں تو آدمی پر جو کچھ قیامت کے دن بیتنے والا ہے وہ اس پر آج ہی بیت جائے۔
1 further citation is on a recording that is not available on YouTube at the moment, so it is not shown here. It is still counted above and included in the download.