وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَلَقَدۡ وَصَّيۡنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ وَإِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدٗا
And to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And We have instructed those who were given the Scripture before you and yourselves to fear Allah. But if you disbelieve - then to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And ever is Allah Free of need and Praiseworthy
The virtuous life that a believer is expected to live is possible only when he has become a God-worshipper in his very heart and soul. Discovering God as the Lord of the universe; fearing and trusting God alone; diverting one’s full attention to the Hereafter—these are the things which enable man to lead a godly life, as desired by God, in this world. This is the life which will make him successful in the life to come. That is why these were the things most focussed on in the teachings of the prophets.
دنیا میں آدمی کو جو صالح زندگی اختیار کرنا ہے وہ اس کو اسی وقت اختیار کرسکتا ہے جب کہ وہ اندر سے اللہ والا بن گیا ہو۔ اللہ کو مالک کائنات کی حیثیت سے پالینا، صرف اللہ سے ڈرنا اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا، آخرت کو اصل سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا میں اس طرح كي صالح زندگی گزارے جو اللہ کو مطلوب ہے اور جو اس کو آخرت کی دنیا میں کامیاب کرنے والی ہے۔ اسی لیے نبیوں کی تعلیمات میں ہمیشہ اسی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔
موجودہ دنیا آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں آدمی کو ہر قسم کے عمل کی آزادی ہو۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہو کہ وہ اپنے سیاہ کو سفید کہہ سکے اور اپنی بے عملی کو عمل کا نام دے۔ یہاں ایک آدمی کے لیے ممکن ہے کہ وہ برائیوںمیں مبتلا ہو مگر اس کو بیان کرنے کے لیے وہ بہترین الفاظ پالے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک کھلی ہوئی سچائی کا انکار کردے اور اپنے انکار کی ایک خوب صورت توجیہہ تلا ش کرلے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی جاہ طلبی، شہرت پسندی، نفع اندوزی اور مصلحت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے اور اس کے باوجود وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ خالص حق کے لیے کام کررہا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کے دین کو اپنے دنیوی اور مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنائے، اور پھر بھی وہ دنیا میں پھلتا اور پھولتا رہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی حلال کو چھوڑ کر حرام ذرائع اختیار کرے، انصاف کے بجائے وہ ظلم کے راستہ پر چلے اور اس کے باوجوداس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ ان مختلف مواقع پر آدمی چاہے تو اپنے کو حق وصداقت کا پابند بنا لے اور چاہے تو سرکشی اور بے انصافی کی طرف چل پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کے تمام احکام میں اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں۔ یہ صرف اللہ کا ڈر ہے جو اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ اگر اللہ کا ڈر نہ ہو تو ایک ایسی دنیا میں کسی کو باطل سے روکنے والی کیا چیز ہوسکتی ہے جہاں باطل کو بھی حق کے پیرایہ میں بیان کیا جاسکتا ہو اور جہاں بے انصافی کی بنیاد پر بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہوں۔ جہاں ہر ظالم کو اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے خوب صورت الفاظ مل جاتے ہوں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →