يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِن قَبۡلُۚ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱللَّهِ وَمَلَـٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا
O you who have believed, believe in Allah and His Messenger and the Book that He sent down upon His Messenger and the Scripture which He sent down before. And whoever disbelieves in Allah, His angels, His books, His messengers, and the Last Day has certainly gone far astray
‘Believers, believe’ is like saying, ‘Muslims become Muslims!’ Calling oneself a Muslim or regarding oneself as such does not suffice for one to be held a Muslim in the eyes of God. A true Muslim is only that person who has made God the centre of his life and the source of his trust and confidence. A Muslim is one who believes in the Prophet and his guidance to the exclusion of all else. A Muslim is one who adheres to the revealed Scripture in such a manner that his thinking and his feelings become totally subordinated to it. A Muslim is one to whom belief in the angels means that he is surrounded by God’s guardians who are constantly watching him. A Muslim is one whose belief in the Hereafter is so profound that he begins to examine all his words and deeds in the balance of the Hereafter. One who becomes a believer in this sense is, in the eyes of God, on the right path, on the straight path to success in the Hereafter. One who does not become a believer in this sense has gone astray, however much he may consider himself a Muslim, a believer.
’’ایمان والوایمان لاؤ‘‘ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ مسلمانوں مسلمان بنو۔ اپنے کو مسلمان کہنا یا مسلمان سمجھنا اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے یہاں بھی مسلمان قرار پائے۔ اللہ کے یہاں صرف وہ شخص مسلمان قرار پائے گا جو اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کے یقین واعتماد کا مرکز بن جائے۔ جو رسول کو اس طرح مانے کہ ہر دوسری رہنمائی اس کے لیے بے حقیقت ہوجائے۔ جو آسمانی کتاب کو اس طرح اپنائے کہ اس کی سوچ اور جذبات بالکل اس کے تابع ہوجائیں۔ جو فرشتوں کے عقیدہ کو اس طرح اپنے دل میں بٹھائے کہ اس کو محسوس ہونے لگے کہ اس کے دائیں بائیں ہر وقت خدا کے چوکیدار کھڑے ہوئے ہیں۔ جو آخرت کا اس طرح اقرار کرے کہ وہ اپنے ہر قول وفعل کو آخرت کی میزان پر جانچنے لگے۔ جو شخص اس طرح مومن بنے وہی اللہ کے نزدیک اس راستہ پر ہے جو ہدایت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ اور جو شخص اس طرح مومن نہ بنے وہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہے، خواہ وہ اپنے آپ خود کو کتنا ہی مومن ومسلم سمجھتا ہو۔
ماننے اور نہ ماننے کا یہ معرکہ آدمی کی زندگی میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ پڑتا ہے تو آدمی کا ذہن دو میں سے کسی ایک رخ پر چل پڑتا ہے۔ یا خواہشات کی طرف یا حق کے تقاضے پورے کرنے کی طرف۔ اگر ایسا ہو کہ معاملہ کے وقت آدمی کی سوچ اور جذبات خواہش کی سمت میں چل پڑیں تو گویا ایمان لانے والے نے ایمان سے انکار کیا۔ ا س کے برعکس، اگر وہ اپنی سوچ اور جذبات کو حق کا پابند بنا لے تو گویا ایمان لانے والا ایمان لے آیا۔ آدمی مسلمان بن کر دنیا کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک حق بات اس کے سامنے آتی ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جو ایسے موقع پر تواضع کا رویہ اختیار کرے اور حق کا اعتراف کرے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے اندر کبر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ حق بات کو ٹھکرادے۔ پہلی صورت ایمان کی صورت ہے اور دوسری صورت ایمان کا انکار کرنے کی۔ جو شخص سچا مومن نہ ہو وہ دنیا کی عزت و جاہ کو پسند کرتا ہے اس لیے وہ ان لوگوں کی طرف جھک پڑتا ہے جن سے منسوب ہو کر اس کی عزت وجاہ میں اضافہ ہو، خواہ وہ اہلِ باطل ہوں۔ اس کو ان لوگوں سے دل چسپی نہیں ہوتی جن سے منسوب ہونا اس کی عزت وجاہ میں اضافہ نہ کرے، خواہ وہ اہلِ حق ہوں۔