وَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تُقۡسِطُواْ فِي ٱلۡيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ
And if you fear that you will not deal justly with the orphan girls, then marry those that please you of [other] women, two or three or four. But if you fear that you will not be just, then [marry only] one or those your right hand possesses. That is more suitable that you may not incline [to injustice]
Orphan boys and girls are the weakest members of a family or society and, therefore, dealing with them appropriately is the toughest test of one’s being imbued with the fear of God. Orphans deserve to be treated in a manner which is just and compassionate and whereby their rights are ensured the maximum protection. It is a major sin for a joint property to be divided in such a way that some are given valuable shares, while others are given worthless shares, only for the purpose of tallying the listed items.
تمام انسان باعتبار پیدائش ایک ہیں۔ بالآخر ایک ہی عورت اور ایک ہی مرد سب کے ماں اور باپ ہیں۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو اپنا سمجھے۔ سب کے سب ایک مشترک گھرانے کے افراد کی طرح مل جل کر انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ رہیں۔پھر ان میں جو خوني رشتے ہیں ان میں یہ نسلی اتحاد اور زیادہ قریبی ہوجاتا ہے اس لیے خوني رشتوں میں حسن سلوک کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انسان کے درمیان اس باہمی حسن سلوک کی اہمیت صرف اخلاقی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ یہ خود آدمی کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے۔ کیوں کہ تمام انسانوں کے اوپر عظیم وبرتر خداہے۔ وہ آخر میں سب سے حساب لینے والا ہے اور دنیا میں ان کے عمل کے مطابق آخرت میں ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ انسان کے معاملہ کو صرف انسان کا معاملہ نہ سمجھے بلکہ اس کو اللہ کا معاملہ سمجھے۔ وہ اللہ کی پکڑ سے ڈرے اور اپنے آپ کو اس عمل کا پابند بنائے جو اس کو اللہ کے غضب سے بچانے والا ہو۔
حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص رحم کو جوڑے گا اس سے جڑوں گا اور جو شخص رحم کو کاٹے گا میں اس سے کٹوں گا (مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ)مسند احمد، حديث نمبر 6494۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے تعلق کا امتحان بندوں سے تعلق کے معاملہ میں لیاجاتا ہے۔ وہی شخص اللہ سے ڈرنے والا ہے جو بندوں کے حقوق کے معاملے میں اللہ سے ڈرے، وہی شخص اللہ سے محبت کرنے والا ہے جو بندں کے ساتھ محبت میں اس کا ثبوت دے۔ یہ بات عام انسانی تعلقات میں بھی مطلوب ہے۔ مگر رحمی رشتوں سے حسن سلوک کے معاملے میں اس کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف اللہ کے بعد دوسرے نمبر پرہے۔
یتیم لڑکے اور لڑکیاں کسی خاندان یا سماج کا سب سے زیادہ کمزور حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے خدا سے ڈر کا سب سے زیادہ سخت امتحان یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ یتیموںکے بارے میں وہی کرے جو انصاف اور خیر خواہی کا تقاضا ہو اور جس میں یتیموں کے حقوق زیادہ سے زیادہ محفوظ رہنے کی ضمانت ہو۔ یہ بہت گناہ کی بات ہے کہ مشترک اثاثہ کی ایسی تقسیم کی جائے جس میں اچھی چیزیں اپنے حصے میں رکھ لی جائیں اور دوسرے کے حصے میں خراب چیزیں ڈال کر گنتی پوری کردی جائے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →