ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ وَيَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبُخۡلِ وَيَكۡتُمُونَ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا
Who are stingy and enjoin upon [other] people stinginess and conceal what Allah has given them of His bounty - and We have prepared for the disbelievers a humiliating punishment
Whatever man possesses is provided by God. This reality demands that man should surrender himself to God and become His worshipper. Such a person naturally becomes humble and his humility is expressed in his relations with the other human beings interacting in his life. He behaves decently with his mother and father and feels the watchful presence of God while dealing with all those who come into contact with him. He pays everybody’s due in accordance with his relationship and need. To overlook a person, in whatever capacity he has to deal with him, appears to him as if he himself is taking the risk of being overlooked by God. One who does not surrender to God, develops an overweening sense of pride. He thinks that whatever he possesses is the outcome of his labour and intelligence. Consequently, he considers that his earnings belong to him alone. To become associated with poor relatives and destitutes becomes a matter of degradation for him. He spends lavishly to satisfy his desires and serves his own interests, but becomes mean about such expenditure as does not satisfy his ego. He is very generous in matters which give him publicity, but quite a miser in the case of unpublicized religious causes.
انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔
جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →