يَوۡمَئِذٖ يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَعَصَوُاْ ٱلرَّسُولَ لَوۡ تُسَوَّىٰ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضُ وَلَا يَكۡتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِيثٗا
That Day, those who disbelieved and disobeyed the Messenger will wish they could be covered by the earth. And they will not conceal from Allah a [single] statement
A dayee or a messenger of Truth happens to be just an ordinary person at the start of his mission. He is not surrounded by any pomp and show. That is why he is rejected by the prominent leaders and intellectuals of society: they fail to apprehend that a man devoid of any outward splendour could be so important that God might choose him to communicate His message to mankind. But when Doomsday approaches and the divine court is ready to deliver its verdict, they will be bewildered to see that that very ordinary man, whom they had rejected as being of no value, has been given the honour of becoming God’s witness and has been set above the nations. In that court the rejecters will stand in the enclosure of the accused, while that ordinary man rejected by them will occupy the seat of God’s spokesman. It will be such a terrible and hard moment for the defaulters that they will wish that the earth would rend itself asunder and swallow them up. But their repentance and sense of humiliation will not at that point serve any purpose. The whole record of their speech, actions and thoughts will be with God and they will be told that their rejection of truth was not due to ignorance but pride, that they considered themselves superior to the preacher of truth, and that the acceptance of reality, despite its having been laid before them, appeared to them like setting their own greatness at naught.
حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد ظاہری بڑائیاں اور رونقیں جمع نہیں ہوتیں۔ اس لیے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہوسکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میںان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنادیاگیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں۔ یہ وہاں مجرم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی۔خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگااور خدا انھیں دکھا دے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ ناواقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوںنے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعیٔ حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود محض اس لیے اس کے منکر ہوگئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔
شریعت میں غیر معمولی حالات میںغیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفر یا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لیے غیر معمولی حالتیں ہیں۔ اس ليےان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے۔ تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کرسکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔
’’نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو‘‘ —یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بتانے کے لیے آئی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحتِ ادا کے ساتھ دہرایا جائے۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا ارادہ کررہا ہے، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کررہا ہے، اسکا شعور بھی اسی خدا کا عبادت گزار بن جائے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →