وَلَا تُؤۡتُواْ ٱلسُّفَهَآءَ أَمۡوَٰلَكُمُ ٱلَّتِي جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ قِيَٰمٗا وَٱرۡزُقُوهُمۡ فِيهَا وَٱكۡسُوهُمۡ وَقُولُواْ لَهُمۡ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا
And do not give the weak-minded your property, which Allah has made a means of sustenance for you, but provide for them with it and clothe them and speak to them words of appropriate kindness
Property is meant neither for luxury nor for the manifestation of pride. It is a means of livelihood for man, supporting his existence in the world. As such, it is not proper on the one hand to consider its acquisition one’s goal in life, while on the other, it is extremely important that any wasteful use of property should be checked and earnest efforts be made, when it falls into the wrong hands, to restore it to its rightful owner. Any misappropriation of anyone’s belongings is akin to creating a breach in God’s arrangement of bestowing a livelihood upon His servants. In the case of an orphan, who happens to be the weakest member of society, it becomes even more imperative that his property be well-protected and he be dealt with in fairness and justice. It is also necessary that a justified settlement with orphans should be recorded in writing and witnessed so that the executor’s responsibility may be honourably discharged with no question of future disputes or complaints. Whenever one takes someone’s affairs in hand, he must proceed with the realization that any injustice he may commit is in the knowledge of God. It is possible that the person whose affairs are being settled is weak and cannot deal effectively with unjust treatment, but surely God will catch hold of the arbiter on the Day of Reckoning and punish him severely for any unjustified settlement. This is inevitable and none can escape it.
مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔
دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →