وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيۡتَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودٗا
And when it is said to them, "Come to what Allah has revealed and to the Messenger," you see the hypocrites turning away from you in aversion
During the early period of Madinah there used to be two courts where judgement on controversial issues might be sought: one pre-dating Islam and controlled by the leaders of the Jews, and the other set up by the Prophet, established after the Migration. Those Muslims who were not ready to sacrifice their interests for the sake of religion and were aware that their cases were too flimsy to be awarded favourable decisions by the court of the Prophet, used to approach the court of Ka‘b ibn Ashraf, a leader of the Jews. Such an attitude is totally against the spirit of the faith. If an individual is unwilling to accept God’s judgement, and aspires to be favoured with a decision to his own liking, his claim to faith is false, whatever repertoire of beautiful words he may draw on to justify his stand. However, while avoiding confrontation with such people, efforts to reform them must be effectively continued.
ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔
مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →