أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَيۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخۡتِلَٰفٗا كَثِيرٗا
Then do they not reflect upon the Qur'an? If it had been from [any] other than Allah, they would have found within it much contradiction
A clear proof of the Quran being the Divine Book is that none of its statements contradict any established truth. It does not contain anything which is against human nature. It does not conflict with any fact known through the earlier divine books. There is no sign of any part of its content contradicting any fact verified by the body of knowledge established by observation and experimentation. The Quran’s total conformity with factual realities is the definite proof that it is the message revealed by God. The Quran being free from contradictions will appear as such to one who ponders over the matter. For truth, to appear as truth, depends on the sincerity with which one tries to understand it, but one who does not ponder over it will ceaselessly raise baseless objections against this Book—and he may do so till the period of human trial is brought to an end by the onset of Doomsday.
خدا کے داعی کو ماننا ’’اپنے جیسے انسان‘‘ کو ماننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی خدا کو مانتا ہے مگر وہ خدا کے داعی کو ماننے پر ر اضی نہیں ہوتا۔ مگرآدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خدا کے داعی کو پہچانے اور اس كے ساتھ اپنے کو کھڑا کرے۔ داعی کے معاملہ کو جب آدمی خدا کا معاملہ نہ سمجھے تو وہ اس کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتا۔ سامنے وہ رسمی طورپر ہاں کر دیتا ہے مگر جب الگ ہوتا ہے تو اپنی سابقہ روش پر چلنے لگتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا پھیلانا سراسر غیر ذمہ دارانہ فعل ہو۔ جو لوگ خدا کے داعی کے ساتھ اس قسم کا بے پروائی کا سلوک کریں وہ خدا کے یہاں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نہیں جانتے تھے۔ آدمی اگر ٹھہر کر سوچے تو داعی کی صداقت کو جاننے کے لیے وہ کلام ہی کافی ہے جو خدا نے اس کی زبان پر جاری کیا ہے۔
قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا کوئی بیان کسی بھی مسلمہ صداقت کے خلاف نہیں۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہو۔ اس میں کوئی ایسا بیان نہیں جو سابق آسمانی کتابوں کے ذریعہ جانی ہوئی کسی حقیقت سے ٹکراتا ہو۔ اس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جو تجربی علوم سے دریافت شدہ کسی واقعہ کے غیر مطابق ہو۔ حقائقِ واقعی سے یہ مکمل مطابقت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ تاہم کسی بھی سچائی کا سچائی نظر آنا اس پر موقوف ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قرآن کا اختلاف کثیر سے خالی ہونا اس شخص کو دکھائی دے گا جو قرآن میں ’’تدبر‘‘ کرے۔ جو شخص تدبر کرنا نہ چاہے اس کے لیے بے معنی اعتراضات نکالنے کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک قیامت آکر موجودہ امتحانی حالات کا خاتمہ نہ کردے۔
اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے افراد اتنے خود شناس ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلے میں اپنی نااہلی کو جان لیں۔ وہ کسی معاملہ کو اہل تر شخص کے حوالے کرکے اس کی رہنمائی پر راضی ہوجائیں۔ یہ خود شناسی ہی واحد چیز ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو شیطان کے پیچھے چل پڑنے سے بچاتی ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو نہ جانے تو وہ اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں بولنے سے زیادہ چپ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شیطان کی مدد کرنا ہے کہ آدمی جو بات سنے اس کو دوسروں کے سامنے دہرانے لگے۔
3 further citations are on recordings that are not available on YouTube at the moment, so they are not shown here. They are still counted above and included in the download.