لَّا يَسۡتَوِي ٱلۡقَٰعِدُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ غَيۡرُ أُوْلِي ٱلضَّرَرِ وَٱلۡمُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۚ فَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ عَلَى ٱلۡقَٰعِدِينَ دَرَجَةٗۚ وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَفَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ عَلَى ٱلۡقَٰعِدِينَ أَجۡرًا عَظِيمٗا
Not equal are those believers remaining [at home] - other than the disabled - and the mujahideen, [who strive and fight] in the cause of Allah with their wealth and their lives. Allah has preferred the mujahideen through their wealth and their lives over those who remain [behind], by degrees. And to both Allah has promised the best [reward]. But Allah has preferred the mujahideen over those who remain [behind] with a great reward
Muslims broadly fall into two categories as far the level of their actions is concerned. One category is comprised of those who adopt the Islamic way of life, remaining within the confines of obligatory injunctions. They worship God and live discreetly, heeding what is lawful and what is unlawful. The second category includes those who live at the level of sacrifice. They follow Islam and exert themselves to convey its message to other people, willingly enduring the difficulties of their endeavour. They place their lives and prossessions in jeopardy for the cause of Islam. They do not confine themselves to obeying obligatory injunctions, but move far beyond—offering their very existence for the sake of Islam. Muslims in both the categories are sincere and will be recipients of their respective shares of God’s grace; however, the status of the second category of Muslims is different from the first. Their offerings in the path of God were not in measurable terms, so neither will God’s requital of their efforts be measurable. These Muslims joined the mission of God without any consideration for expediency; accordingly, God’s grace and mercy will, in return, be immeasurable.
عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر مسلمان تھے مگر ہجرت کرکے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے۔ ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔اس نے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کردیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ حتی کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا ماراجانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہوجانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ) سنن الترمذي، حديث نمبر 1395۔
جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابلِ تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کے باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرلے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کرکے خاموش ہوجائے گا۔
عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں او رحرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہيں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان ومال کو لے کر حاضر ہوجائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لیے پیش کردیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیںگے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنيادی طورپر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لیے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کیے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لیے خدابھي پروا کیے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔