هُوَ ٱلۡحَيُّ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۗ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
He is the Ever-Living; there is no deity except Him, so call upon Him, [being] sincere to Him in religion. [All] praise is [due] to Allah, Lord of the worlds
This verse invokes a true subject of God to ‘call upon Him, giving Him sincere devotion’. It means that any form of obeisance and worship should be for the One and only God.
زمین پر ان گنت اسباب جمع کيے گئے ہیں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان جیسی مخلوق اس کے اوپر تمدن کی تعمیر کرسکے۔ اسی طرح زمین کے اوپر جو فضا ہے ا س میں بھی بے شمار موافق انتظامات ہیں جن میں اگر معمولی فرق بھی پیدا ہوجائے تو انسانی زندگی کا نظام درہم برہم ہوجائے۔ پھر انسان کی بناوٹ اتنے اعلیٰ انداز میں ہوئی ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے اس دنیا کی سب سے برتر مخلوق بن گیا ہے— جس خالق نے یہ سب کیا ہے اس کے سواکون اس قابل ہوسکتاہے کہ انسان اس کا پرستار بنے۔
خدا کےلیے دين کو خالص کرکے اسے پکارنا یہ ہے کہ دینی ومذہبی نوعیت کا تعلق صرف ایک اللہ سے ہو۔ اللہ کے سوا کسی سے دینی ومذہبی قسم کا لگاؤ باقی نہ رہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →