وَإِذۡ أَوۡحَيۡتُ إِلَى ٱلۡحَوَارِيِّـۧنَ أَنۡ ءَامِنُواْ بِي وَبِرَسُولِي قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَٱشۡهَدۡ بِأَنَّنَا مُسۡلِمُونَ
And [remember] when I inspired to the disciples, "Believe in Me and in My messenger Jesus." They said, "We have believed, so bear witness that indeed we are Muslims [in submission to Allah]
It is the dayee who performs the duty of calling upon people to Truth. But a positive response to this call cannot be given unless it is God-inspired. Even after being convinced of the veracity of the call, a man still does not necessarily proceed to accept it, as many impediments still remain—the appearance of the missionary as a common man; the fear that on acceptance of the call the structure of the life already built up will crumble, the question that if this is the Truth, whether certain great men were strangers to the Truth, etc. This is a critical juncture where a man is unable to take a decision, even having reached the stage of decision-making. This is the point at which God helps him. He holds the hands of a person in whom He sees some goodness and leads him across the borders of doubt and ushers him into the area of certainty.
لوگوں کو حق کی طرف پکارنے کا کام اگر چہ داعی انجام دیتاہے مگر پکار پر لبیک کہنا ہمیشہ خدا کی توفیق سے ہوتا ہے دعوت کی صداقت کو دلائل سے جان لینے کے بعد بھی بہت سی رکاوٹیں باقی رہتی ہیں جو آدمی کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتیں — داعی کا ایک عام انسان کی صورت میں دکھائی دینا، یہ اندیشہ کہ دعوت قبول کرنے کے بعد زندگی کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا، یہ سوال کہ اگر یہ سچائی ہے توفلاں فلاں بڑے لوگ کیا سچائی سے محروم تھے، وغیرہ۔ یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہوتا ہے جہاں آدمی فیصلہ کے کنارے پہنچ کر بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا اس کی مدد کرتا ہے۔ جس شخص کے اندر وہ کچھ خیر دیکھتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو شبہ کی سرحد پار کرادیتاہے اور اس کو یقین کے دائرہ میں داخل کردیتا ہے۔
خدا کی طرف سے ہر وقت انسان کو رزق فراہم کیا جارہا ہے۔ حتی کہ پوری زمین انسان کے لیے رزق کا دسترخوان بنی ہوئی ہے۔ مگر مومنینِ مسیح نے آسمان سے طعام اتارنے کا مطالبہ کیا تو ان کو سخت تنبيه کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالات میں ہم کو جو رزق ملتا ہے وہ اسباب کے پردے میں مل رہا ہے۔ جب کہ مومنینِ مسیح کا مطالبہ یہ تھا کہ اسباب کا پردہ ہٹا کر ان کا رزق انھیں دیا جائے۔ یہ چیز سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اگر اسباب کا ظاہری پردہ ہٹا دیا جائے تو امتحان کس بات کا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ کھیت سے لہلہاتی ہوئی فصل کا پیدا ہونا یا مٹی کے اندر سے ایک شاداب درخت کا نکل کر کھڑا ہوجانا بھی اسی طرح معجزہ ہے جس طرح بادلوں میں ہو کر کسی خوان کا ہماری طرف آنا۔ مگر ان واقعات کا معجزہ ہونا ہم کو اس لیے نظر نہیں آتا کہ وہ پردہ میں ہو کر ظاہر ہورہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ وہ ’’زمین‘‘ سے نکلنے والے رزق کو ’’آسمان‘‘ سے اترنے والے رزق کے روپ میں پالے۔ اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرے کہ میں دیکھ کر مانوں گا تو گویا وہ کہہ رہا ہے کہ امتحان سے گزرے بغیر میں خدا کی رحمت میں داخل ہوں گا۔ حالاں کہ خدا کی سنت کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →