وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَهُمۡ فَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَأَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ ٱلۡعَدَاوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ
And from those who say, "We are Christians" We took their covenant; but they forgot a portion of that of which they were reminded. So We caused among them animosity and hatred until the Day of Resurrection. And Allah is going to inform them about what they used to do
When The People of the Book (i.e. those communities blessed with Divine Scriptures) go astray, they disregard the clear-cut, eternal parts of the Scriptures and hasten to embrace those parts which are of purely local or topical interest. This leads to conflict and results in degradation in the Hereafter. Whenever such groups leave the right path, infirmities become apparent. They start adopting a religion of their own imagining, casting aside their time-honoured authentic religion. Dissatisfied with the clear commandments given by God and His prophets on religious laws, spirituality and politics, they delve into them to find new points of contention. This opens up the door to differences and sectarianism. Sometimes, to justify worldly desires, sometimes to perfect the ‘imperfect’ religion of God, sometimes just to move with the times, dissatisfied elements introduce new elements into religion which are not really part of it. In this way, different new editions of religion take shape—some spiritual, some political, and so on. Around each one of them, like-minded persons start gathering and finally they form a sect. Succeeding generations start protecting this new version, treating it as if it were the heritage of their forefathers. A stage comes when it will clearly be perpetuated until Doomsday, because man tends to treat the past as sacred, and once something is sanctified by time and tradition, it takes on an aura of being eternal. Sectarianism in the name of religion on the one hand becomes sacred and eternal and on the other comes to be regarded as God’s command and gives licence for harbouring hatred and indulging in violence against others.
آسمانی کتاب کی حامل قوموں پر جب بگاڑ آتا ہے تو وہ دین کے محکم حصہ کو چھوڑ کر اس کے غیر محکم حصہ پر دوڑ پڑتی ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آخرت میںرسوائی کی صورت میں۔
مسیح علیہ السلام باپ کے بغیر ایک پاکباز خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے۔ پیدائش کے بعد انھوں نے اپنی زبان سے اپنا جو تعارف کرایا وہ یہ تھا ’’میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں‘‘۔ اب حضرت مسیح کے بارے میں رائے قائم کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آنجناب نے اپنے بارے میں جو واضح الفاظ فرمائے ہیں انھیں کی پابندی کی جائے اور آپ کو وہی سمجھا جائے جو ان الفاظ سے براہِ راست طورپر معلوم ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اپنے قیاس کو دخل دیا جائے اور کہا جائے کہ ’’انسان وہ ہے جو کسی باپ کا بیٹا ہو۔ مسیح کسی باپ کے بیٹے نہ تھے۔ اس لیے وہ خدا کے بیٹے تھے‘‘۔ پہلی رائے کی بنیادخود مسیح کا محکم اور مستند قول ہے۔ اس لیے اگر اس کو اختیار کیا جائے تو اس میں اختلاف پیدا نہ ہو گا۔ جب کہ دوسری رائے کی بنیاد محض انسانی قیاس پر ہے۔ اس لیے جب دوسری رائے کو اختیار کیا جائے گا تو رایوں کا اختلاف شروع ہوجائے گا، جیساکہ مسیح کو ماننے والوں کے ساتھ بعد کے زمانہ میں ہوا۔
آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم میں جب بگاڑ آتا ہے تو اس کے اندر اسی قسم کی خرابیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ محکم دین کو چھوڑ کر قیاسی دین پر چل پڑتی ہے۔ یہیں سے اختلاف اور فرقہ بندیوں کا دروزاہ کھل جاتا ہے۔ فقہ اور کلام، روحانیت اور سیاست میں خدا و رسول نے جو کھلے ہوئے احکام ديے ہیں لوگ ان کے سادہ مفہوم پر قانع نہیں رہتے بلکہ بطور خود نئي نئي بحثيں نكالتے هيں۔ كبھي زمانے كے خيالات سے متاثر هو كر، كبھي اپني دنيوي خواهشوں كو ديني جواز عطا كرنے كے ليے، كبھي بزعم خود خدا کے ناقص دین کو کامل بنانے کے لیے، اپنی طرف سے ایسی باتیں دین میں داخل کردی جاتی ہیں جو حقیقۃً دین کا حصہ نہیں ہوتیں۔ اس طرح نئے نئے دینی ایڈیشن تیار ہوجاتے ہیں۔ کوئی روحانی ایڈیشن، کوئی سیاسی ایڈیشن، کوئی اور ایڈیشن۔ ہر ایک کے گرد اس کے موافق ذوق رکھنے والے لوگ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ بالآخر ان کا ایک فرقہ بن جاتا ہے۔ ان کی بعد کی نسلیں اس کو اسلام کا ورثہ سمجھ کر اس کی حفاظت شروع کردیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ وہ قیامت تک کبھی ختم نہ ہو۔ کیوں کہ انسان ماضی کو ہمیشہ مقدس سمجھ لیتا ہے اور جو چیز مقدس بن جائے وہ کبھی ختم نہیں ہوتی — مذہب کے نام پر فرقہ بندی ایک طرف مقدس ہو کر ابدی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف خدا کا حکم بن کر دوسروں کے خلاف نفرت اور جارحیت کا اجازت نامہ بھی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →