إِنَّمَا جَزَـٰٓؤُاْ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسۡعَوۡنَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓاْ أَوۡ يُصَلَّبُوٓاْ أَوۡ تُقَطَّعَ أَيۡدِيهِمۡ وَأَرۡجُلُهُم مِّنۡ خِلَٰفٍ أَوۡ يُنفَوۡاْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِۚ ذَٰلِكَ لَهُمۡ خِزۡيٞ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Indeed, the penalty for those who wage war against Allah and His Messenger and strive upon earth [to cause] corruption is none but that they be killed or crucified or that their hands and feet be cut off from opposite sides or that they be exiled from the land. That is for them a disgrace in this world; and for them in the Hereafter is a great punishment
The greatest achievement for a man is his nearness to God. This nearness in its real and perfect shape will be his in the Hereafter. However, when a man’s righteous action brings him nearness to God, he experiences this in this world purely in the form of heavenly feeling. The way to attain this nearness is through becoming a true worshipper of God, and through struggling to make efforts for His cause.
کوئی شخص جب کسی شخص کو قتل کرتاہے تو وہ صرف ایک انسان کا قاتل نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا قاتل ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ حرمت کے اس قانون کو توڑتا ہے جس میں تمام انسانوں کی زندگیاں بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی کو ظالم کے ظلم سے نجات دیتا ہے تو وہ صرف ایک شخص کا نجات دہندہ نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا نجات دہندہ ہوتا ہے۔کیوں کہ اس نے اس اصول کی حفاظت کی کہ تمام انسانوں کی جان محترم ہے۔ کسی کو کسی کے اوپر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں۔ جب کوئی شخص کسی کی عزت یا اس کے مال یا اس کی جان پر حملہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ کے اندر ہنگامی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وه ایسے کسی ایک واقعہ کو بھی اس نظر سے دیکھیں گویا سارے لوگوں کی جان اور مال اور آبرو خطرے میں ہے۔ کسی معاشرہ میں ایک دوسرے کے احترام کی روایات لمبی تاریخ کے نتیجہ میں بنتی ہیں۔ اور اگر ایک بار یہ روایات ٹوٹ جائیں تو دوبارہ لمبی تاریخ کے بعد ہی ان کو معاشرہ کے اندر قائم کیاجاسکتا ہے۔ جو لوگ معاشرہ کے اندر فساد کی روایت قائم کریں وہ معاشرہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
خدا نے اپنی دنیا کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے حصہ کا فرض انجام دے۔ کوئی شخص دوسرے کے دائرہ میں بے جا مداخلت نہ کرے۔ تمام جمادات اور حیوانات اسی فطرت پر عمل کررہے ہیں۔ انسان کو بھی پیغمبروں کے ذریعہ یہ ہدایات واضح طور پر بتا دی گئی ہیں۔ مگر انسان جو کہ دیگر مخلوقات کے برعکس وقتي طورپر آزاد رکھا گیا ہے، سرکشی کرتا ہے اور اس طرح فطرت کے نظام میں فساد پیدا کرتا ہے۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ اور وہ لوگ اور بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں جو خدا و رسول سے جنگ کریں۔ یعنی خدا اپنے بندوں کے درمیان ایسی دعوت اٹھائے جو لوگوں کومفسدانہ طریقوں سے بچنے اور فطرت خداوندی پر زندگی گزارنے کی طرف بلاتی ہو تو وہ اس کا راستہ روکیں اور اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کریں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں عبرت ناک سزا ہے اور آخرت میں بھڑکتی ہوئی آگ۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →