إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡ أَنَّ لَهُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لِيَفۡتَدُواْ بِهِۦ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنۡهُمۡۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
Indeed, those who disbelieve - if they should have all that is in the earth and the like of it with it by which to ransom themselves from the punishment of the Day of Resurrection, it will not be accepted from them, and for them is a painful punishment
The principle on which God has created the system of this world is that everybody should discharge his duty, and nobody should unnecessarily interfere in the sphere of others. All inanimate objects and animals follow this natural law. Human beings also have been given clear instructions to this effect through the prophets. But human beings who, unlike other creatures, have been given freedom for the time being, rebel, and in that way create a disturbance in the system of Nature. Such people are the worst criminals in the eyes of God. And those who declare war against God and His prophet are still worse criminals. Such people frequently indulge in acts of terrorism. This runs counter to God’s call to His subjects to refrain from creating disturbances. It also negates His invitation to them to lead their lives according to divine Nature. For such people there is a terrible punishment in this world and an all-consuming fire in the Hereafter.
بندے کے لیے سب سے بڑی چیز اللہ کی قربت ہے۔ یہ قربت اپنی محسوس اور کامل صورت میں تو آخرت میں حاصل ہوگی۔ تاہم کسی بندے کا عمل جب اس کو اللہ سے قریب کرتاہے تو ایک لطیف احساس کی صورت میں اس کا تجربہ اس کو اسی دنیا میں ہونے لگتا ہے۔ اس قربت تک پہنچنے کا ذریعہ تقویٰ اور جہاد ہے۔ یعنی ڈرنے اور جدوجہد کرنے کی سطح پر اللہ کا پرستار بننا۔ آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے کو حق اور ناحق کے درمیان کھڑا ہوا پاتا ہے۔ حق کی طرف بڑھنے میں اس کی اَنا ٹوٹتی ہے۔ اس کی دنیوی مصلحتوں کا ڈھانچہ بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب کہ ناحق کا طریقہ اختیار کرنے میں اس کی اَنا قائم رہتی ہے۔ اس کی مصلحتیں پوری طرح محفوظ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں جو شخص خدا سے ڈرے اور تمام دوسری باتوں کو نظر انداز کرکے خداکو پکڑلے۔ اور ہر مشکل اور ہر ناخوش گواری کو جھیل کر خدا کی طرف بڑھے تو یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ اور اِس قربت کا نقد تجربہ آدمی کو حسّيات کی سطح پر ایک لطیف ادراک کی صورت میں اسی وقت ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص تقویٰ اور جہاد کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہ ہو اس نے خدا کا انکار کیا۔ وہ خدا سے دور ہو کر ایسے عذاب میں پڑ جاتا ہے، جس سے وہ کسی طرح چھٹکارا نہ پاسکے گا۔
جزا کا معاملہ تمام تر خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ تو ایسا ہے کہ کوئی بعد کی زندگی میں اصلاح کر لے تب بھی اس کے پچھلے اعمال اس سے نہ دھلیں اور نہ یہ بات ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سفارش یا مداخلت کے زورپر کسی کے انجام کو بدل سکے۔ سارا معاملہ ایک خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی کمال درجہ حکمت اور قدرت کے ساتھ سب کا فیصلہ کرے گا۔
سماجی جرائم کے لیے اسلام کی سزائیں دو خاص پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک، آدمی کے جرم کی سزا۔ دوسرے یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ آخرت میں اللہ اسے معاف کردے گا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →