سَمَّـٰعُونَ لِلۡكَذِبِ أَكَّـٰلُونَ لِلسُّحۡتِۚ فَإِن جَآءُوكَ فَٱحۡكُم بَيۡنَهُمۡ أَوۡ أَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡۖ وَإِن تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيۡـٔٗاۖ وَإِنۡ حَكَمۡتَ فَٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِٱلۡقِسۡطِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ
[They are] avid listeners to falsehood, devourers of [what is] unlawful. So if they come to you, [O Muhammad], judge between them or turn away from them. And if you turn away from them - never will they harm you at all. And if you judge, judge between them with justice. Indeed, Allah loves those who act justly
The common form of bribe (suht) is that which is taken directly as such. For example, there were ancient religious scholars who used to give false decrees and opinions after taking bribes. However, there is another form of corruption in which there is no direct give-and-take transaction but it is the biggest and worst out of all the various forms of corruption. This is the distorting of the provisions of religion by opportunists to suit popular tastes so that they may have honour and glory conferred upon them by an admiring public, and receive contributions and offerings from all and sundry. Presenting religion in its pure form is always at the cost of unpopularity with the public. On the contrary, a version of religion which without materially disrupting people’s lives, confers the advantages of religion, is very popular and attracts large crowds. The purveyors of a ‘religion’ which does not oblige potential followers to give up or modify their world-oriented lives, and guarantees admission to paradise with the help of some trivial formalities, very soon become the favourites of the public. The same is true of those who present a ‘religion’ which gives sanctity to national and communal interests and all the accompanying frenzy of material activities; which gives a man the opportunity, under the banner of religion, to engage himself in glory-seeking activities.
حرام (سُحت) سے مراد رشوت ہے۔ رشوت کی ایک عام شکل وہ ہے جو براہِ راست اسی نام پر لی جاتی ہے۔ چنانچہ یہودی علماء میں ایسے لوگ تھے جو رشوت لے کر غلط مسائل بتایا کرتے تھے۔ تاہم رشوت کی ایک اور صورت وہ ہے جس میں براہِ راست لین دین نہیں ہوتا مگر وہ تمام رشوتوں میں زیادہ بڑی اور زیادہ قبیح رشوت ہوتی ہے۔ یہ ہے دین کو عوامی پسند کے مطابق بنا کر پیش کرنا تاکہ عوام کے درمیان مقبولیت ہو، لوگوں کا اعزاز واکرام ملے، لوگوں کے چندے اور نذرانے وصول ہوتے رہیں۔
دین کو اس کی بے آمیز صورت میں پیش کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی عوام کے اندر نامقبول ہوجائے۔ اس کے برعکس دین کو اگر ایسی صورت میں پیش کیا جائے کہ زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی بھی نہ کرنا پڑے اور آدمی کو دین بھی حاصل رہے تو ایسے دین کے گرد بہت جلد بھیڑ کی بھیڑ اكٹھا ہوجاتی ہے — وہ دین جس میں اپنی دنیا پرستانہ زندگی کو بدلے بغیر کچھ سستے اعمال کے ذریعہ جنت مل رہی ہو۔ وہ دین جو قومی اور مادی ہنگامہ آرائیوں کو دینی جواز عطا کرتا ہو۔ وہ دین جس میں یہ موقع ہو کہ آدمی اپنی جاہ پسندی کے لیے سرگرم ہو، پھر بھی وہ جو کچھ کرے سب دین کے خانہ میں لکھا جاتا رہے۔ جو لوگ اس قسم کا دین پیش کریں وہ بہت جلد عوام کے اندر محبوبیت کا مقام حاصل کرلیتے ہیں۔
یہود کے قائدین اسی قسم کا دین چلا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے۔ وہ عوام کو ان کا پسندیدہ دین پیش کررہے تھے اور عوام اس کے معاوضہ میں ان کو مالی تعاون سے لے کر اعزاز واکرام تک ہر چیز نثار کررہے تھے۔ ایسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچے دین کی آواز بلند کرنا ان کو ناقابلِ برداشت معلوم ہوا۔ کیوں کہ یہ ان کے مفادات کے ڈھانچہ کو توڑنے کے ہم معنی تھا، آپ سے ان کو اتنی ضد ہوگئی کہ آپ کے متعلق کسی اچھی خبر سے ان کو کوئی دل چسپی نہ رہی۔ البتہ اگر وہ آپ کے بارے میں کوئی بری خبر سنتے تو اس میں خوب دل چسپی لیتے اور اس میں اضافہ کرکے اس کو پھیلاتے۔ جن لوگوں میں اس قسم کا بگاڑ آجائے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اگر وہ دینی فیصلہ لینے کی طرف رجوع بھی ہوتے ہیں تو اس امید میں کہ فیصلہ اپنی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ جانتے ہوئے کہ یہ خدا ورسول کا فیصلہ ہے اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرنا محض ایک فیصلہ کو نہ ماننا نہیں ہے بلکہ خود ایمان واسلام کا انکار کرنا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →