وَإِذَا جَآءُوكُمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَقَد دَّخَلُواْ بِٱلۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُواْ بِهِۦۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا كَانُواْ يَكۡتُمُونَ
And when they come to you, they say, "We believe." But they have entered with disbelief [in their hearts], and they have certainly left with it. And Allah is most knowing of what they were concealing
There were certain of the Jews of Madinah who were impressed by Islam. Moreover, considering the increasing domination of Islam, they did not want to incur its open enmity. Although in their hearts these people were steadfast in the religion of their forefathers, they used to make a show of being believers by their utterances. Such people forget that their dealings are not actually with any human being but with God, and God is the Being who knows what is inside one’s heart. When He deals with anyone, it will be based on reality and not on any words which that person chose to utter to protect his own interests. There were two types of prominent Jews—one the rabbis and the other the holy men. The latter were ahbar, i.e. scholars and interpreters. Both types remained busy day and night in the work of religion, for their leadership was propped up solely by religious work and they received substantial amounts in the name of religion. But, the real secret of their leadership and public acclaim was their presentation of a popular version of religion rather than the true religion favoured by God. They spoke and acted ostensibly for the sake of religion, but in reality their words and deeds were worldly-wise. Worse, they gave to the people, in the name of religion, whatever they wanted for themselves, knowing full well that in actuality those things were unconnected with religion.
مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا، نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طورپر اپنے منھ سے نکالا تھا۔
یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہاجاسکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح وشام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی۔ اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھی۔ مگر ان کی قیادت ومقبولیت کا راز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی، نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کاچلنا بظاہر دین کے لیے تھا۔ مگر حقیقۃً وہ ایک قسم کی دنیاداری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ وہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لیے پسند كيے ہوئے تھے۔
خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو، نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتاہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے۔ اب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوںنے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔وہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں۔ یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرا دینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →