وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ
And I did not create the jinn and mankind except to worship Me
God Himself possesses all kinds of powers. However, He has created the angels to effect the administration of His vast domain. But, the case of human beings is different. Human beings were not created to fulfill any administrative or other need of God. The sole purpose of their creation was their devotion and servitude (‘ibadah) to God. This implies bowing down without any reservation before God completely and dedicating oneself entirely to Him. The substance of this devotion is deep inner realisation of God (ma‘rifah) (Tafsir ibn Kathir). In other words, it is required of man that God should be a discovery for him. He should recognise God without seeing him. This is essential to ma‘rifah. The shape which the life of a man takes as a result of this ma‘rifah is one of devotion and subservience.
خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔
اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر
225
)۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ
425
) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ
562
) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔
پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔
ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔
1 further citation is on a recording that is not available on YouTube at the moment, so it is not shown here. It is still counted above and included in the download.