وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلۡمُنتَهَىٰ
And that to your Lord is the finality
The sum and substance of the reality revealed by Almighty God through His prophets is that every man has to receive the reward befitting his deeds. Nobody can save himself from the fate attending his deeds and nobody else can be his saviour. There is nobody more foolish in this world of God than those who are not affected by this prophetic warning.
بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →