يَسۡـَٔلُهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِي شَأۡنٖ
Whoever is within the heavens and earth asks Him; every day He is bringing about a matter
Nothing in this world possesses creative power i.e. the objects on which things depend for their continued existence are not self-created. This shows the boundless power of the Creator. The signs of God in this world are so many that it is not possible for any thinking individual to ignore them. But man is such a transgressor that, even when surrounded by a host of signs, he denies them.
دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز فنا پذیر ہے۔ اشیاء کا فنا پذیری کے باوجود موجود ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کا خالق اور منتظم غیر فانی ہے۔ اگر وہ غیر فانی نہ ہوتا تو اشیاء کا وجود ہی نہ ہوتا ۔یا اگر ہوتا تو اب تک ان کا وجود مٹ چکا ہوتا۔
دنیا کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ دنیا کی کسی چیز کے اندر تخلیق کی طاقت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اشیاء اپنی بقا کے لیے جن چیزوں کی محتاج ہیں وہ ان کی اپنی پیدا کردہ نہیں ہیں۔یہ واقعہ دوبارہ خالق کی بے پایاں قدرت کو بتاتا ہے۔ یہ حقیقتیں اتنی واضح ہیں کہ کسی سنجیدہ آدمی کے لیے ان کا انکار ممکن نہیں۔
خدا کی نشانیاں اس دنیا میں اتنی زیادہ ہیں کہ ایک سنجیدہ انسان کے لیے ان کو نظر انداز کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ نشانیوں کے ہجوم میں بھی ان نشانیوں کا انکار کرتا ہے۔